پاکستان کے 25 سرکاری اداروں کا خسارہ 832 ارب روپے تک پہنچ گیا

پاکستان میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والے 25 سرکاری اداروں کا خسارہ 832 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

وزارتِ خزانہ نے ان اداروں کی کارکردگی پر تفصیلی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق 30 جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران سب سے زیادہ خسارہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں ہوا۔

مالی سال 2025 کے اختتام پر این ایچ اے کا مجموعی خسارہ 294 ارب 90 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر نقصان میں جانے والے ادارے کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کارپوریشن اور پشاور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن رہے، جنھوں نے بالترتیب 112 ارب 70 کروڑ اور 92 ارب 70 کروڑ روپے کا خسارہ کیا۔

اسی مالی سال کے دوران پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کا خسارہ 48 ارب 90 کروڑ روپے اور پاکستان ریلویز کا خسارہ 60 ارب روپے رہا۔ وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 کے اختتام تک 52 حکومتی اداروں نے نقصان کے بجائے منافع کمایا، جس کا مجموعی حجم 709 ارب روپے تھا۔

اس طرح حکومت کے زیر انتظام سرکاری اداروں کا نیٹ خسارہ 123 ارب روپے رہا، جو سال 2024 میں 30 ارب 60 کروڑ روپے تھا۔ یوں موجودہ حکومت کے دور میں سرکاری اداروں کے خسارے میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ منافع بخش ادارہ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن رہا، جس نے جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں 169.9 ارب روپے کا منافع کمایا۔ دوسرے نمبر پر پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ رہا، جس کا منافع 89.9 ارب روپے اور تیسرے نمبر پر نیشنل بینک رہا، جس کا منافع 52 ارب 23 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا۔

اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران حکومت نے ان اداروں کو چلانے کے لیے 2078 ارب روپے جاری کیے، جو گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 37 فیصد زیادہ ہیں۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب رواں ماہ کے اختتام پر آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پاکستان آ رہا ہے۔ آئی ایم ایف سمیت کئی عالمی مالیاتی ادارے پاکستان میں سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی اور غیر منافع بخش کاروباری ماڈلز پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کا بھی اصرار ہے کہ حکومت ان اداروں کی نجکاری کرے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نجکاری کے پہلے مرحلے میں پی آئی اے کی فروخت کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے اور اس کے بعد بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں نیلام کی جائیں گی۔ نجکاری کمیشن کے مطابق سال 2024 سے 2025 کے دوران مختلف مراحل میں 24 حکومتی اداروں کی نیلامی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

Share this content: