پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی اہم درسگاہ یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر میں اکیڈمک اسٹاف کی جاری ہڑتال کے باعث تدریسی اور انتظامی نظام پانچ روز سے شدید متاثر ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف کیمپس بند پڑے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو چکی ہیں۔
اساتذہ کی جانب سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی، پنشن میں تاخیر، اپ گریڈیشن اور سروس اسٹرکچر کے مسائل کو بنیاد بنا کر احتجاج کیا جا رہا ہے۔
احتجاجی اساتذہ کا مؤقف ہے کہ کئی ماہ سے واجبات ادا نہیں کیے گئے جبکہ ریٹائرڈ اساتذہ بھی پنشن کی ادائیگی سے محروم ہیں۔ اس کے علاوہ اپ گریڈیشن اور پروموشن کیسز طویل عرصے سے التواء کا شکار ہیں، جس کے باعث تدریسی عملے میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب طلبہ نے بھی اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ اکیڈمک اسٹاف کی ہڑتال کے باعث ان کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ کلاسز کی بندش سے سمیسٹر سسٹم بری طرح متاثر ہو رہا ہے جبکہ امتحانات اور تحقیقی سرگرمیاں بھی تعطل کا شکار ہیں، جس سے ان کے تعلیمی مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
طلبہ نے حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اساتذہ کے جائز مطالبات فوری طور پر حل کیے جائیں تاکہ تعلیمی سرگرمیاں جلد بحال ہو سکیں اور جامعہ کا نظام معمول پر آ سکے۔
Share this content:


