دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کوئی بھی معاشرہ ہمیشہ کے لیے پسماندہ نہیں رہتا اور نہ ہی کوئی ترقی ہمیشہ کے لیے یقینی ہوتی ہے۔ اصل فرق وژن، قیادت، اجتماعی کردار اور اخلاقی بنیادوں میں ہوتا ہے۔ وہ معاشرے جو کبھی غربت، بدامنی، بیماری، ناخواندگی اور سیاسی انتشار کا شکار تھے، آج عالمی سطح پر ترقی، خوشحالی اور انسانی وقار کی علامت بن چکے ہیں۔ بس فیصلہ یہ کرنا ہوتا ہے کہ ترقی و خوشحالی کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا جائے اور کن مراحل سے گزرا جائے۔ اگر فیصلہ واقعی اپنی پہچان بنانے اور دنیا میں نام پیدا کرنے کے واضح ہدف کے مطابق ہو تو سفر کہیں سے بھی کسی بھی وقت کیسے ہی حالات میں شروع کیا جا سکتا ہے ۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد تباہ حال ہونے والا جرمنی آج یورپ کی سب سے مضبوط معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح جاپان ایٹمی تباہی کے بعد کھنڈرات سے اٹھا اور تعلیم، تحقیق اور صنعتی نظم و ضبط کے ذریعے دنیا کی صفِ اول کی معیشت بن گیا۔ سنگاپور نے وسائل کی کمی کے باوجود شفاف حکمرانی، سخت احتساب اور معیاری تعلیم کے ذریعے خود کو عالمی تجارتی مرکز میں تبدیل کیا۔ جنوبی کوریا نے جنگ کے بعد غربت سے نکل کر ٹیکنالوجی اور صنعت میں عالمی قیادت حاصل کی۔ افریقہ میں روانڈا نسل کشی کے سانحے کے بعد سیاسی استحکام، خواتین کی شمولیت اور بدعنوانی کے خاتمے کے ذریعے تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بنا۔ ملائیشیا نے کثیرالثقافتی معاشرے میں معاشی اصلاحات اور صنعتی حکمتِ عملی کے ذریعے خود کو متوسط آمدن والے ملک سے جدید معیشت میں ڈھالا۔ اسی طرح چین نے اصلاحات اور برآمدی صنعت کی پالیسیوں کے ذریعے کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا۔
ان تمام مثالوں میں چند مشترک عناصر نمایاں نظر آتے ہیں: تعلیم کو اولین ترجیح دینا، قانون کی بالادستی، کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس، خواتین اور نوجوانوں کو قومی ترقی میں شامل کرنا، اور سب سے بڑھ کر ایک مشترکہ قومی بیانیہ تشکیل دینا۔ ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں کا نام نہیں؛ یہ ذہنوں کی تعمیر، اقدار کی مضبوطی اور اجتماعی اعتماد کی بحالی کا نام ہے۔ اگر معاشرہ اخلاقی بنیادوں سے محروم ہو تو معاشی ترقی بھی دیرپا نہیں رہتی۔
ایک بہترین معاشرہ بنانے کے لیے سب سے پہلا مرحلہ فکری تبدیلی ہے۔ جب تک لوگ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک نہیں کرتے، کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوتا۔ ہر فرد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کرے، دیانت داری کو اپنائے، بدعنوانی کو نہ صرف رد کرے بلکہ اس کے خلاف آواز بھی اٹھائے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو صرف ڈگری نہیں بلکہ کردار دیں۔ اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ تحقیق، تنقیدی سوچ اور اخلاقی تربیت کو فروغ دیں۔ تاجر منافع کے ساتھ دیانت کو بھی مقدم رکھیں۔ سیاست دان خدمت کو اقتدار پر ترجیح دیں۔ میڈیا سنسنی کے بجائے شعور پیدا کرے۔ یہی وہ اجتماعی کردار ہے جو معاشرے کو اندر سے مضبوط کرتا ہے۔
ریاستِ جموں کشمیر،خاص طور پر جو پاکستان کے زیر انتظام خطہ ہے، قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔ لیکن امکانات کو حقیقت بنانے کے لیے منصوبہ بندی، شفافیت اور سماجی ہم آہنگی ضروری ہے۔ سب سے پہلے معیاری تعلیم اور ٹیکنیکل ٹریننگ پر سرمایہ کاری کی جائے تاکہ نوجوان صرف ملازمت کے متلاشی نہ رہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بن سکیں۔ سیاحت، زراعت، پن بجلی اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں جدید مہارتوں کو فروغ دیا جائے۔ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے تاکہ ترقی کا عمل نچلی سطح تک پہنچے۔ احتساب کا ایسا نظام قائم ہو جو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو۔
اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی احیاء ناگزیر ہے۔ اگر معاشرہ باہمی احترام، برداشت اور اتحاد کی فضا قائم نہ کر سکے تو ترقی کے تمام منصوبے کمزور بنیادوں پر کھڑے رہیں گے۔ بہترین انسان وہ ہے جو اپنے فائدے سے پہلے اجتماعی مفاد کو دیکھے۔ بہترین معاشرہ وہ ہے جہاں کمزور محفوظ ہو، خواتین بااختیار ہوں، نوجوان باوقار روزگار حاصل کریں، اور بزرگ عزت کے ساتھ زندگی گزاریں۔ ترقی کا اصل معیار فی کس آمدن نہیں بلکہ انسانی وقار اور انصاف کی دستیابی ہے۔
دنیا کے کامیاب معاشروں نے یہ سبق دیا ہے کہ ترقی کا سفر لمبا ضرور ہوتا ہے مگر ناممکن نہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ قوم اپنی سمت متعین کرے، اخلاقی اصولوں کو بنیاد بنائے، اور ہر فرد خود کو تبدیلی کا حصہ سمجھے۔ جب ریاستی پالیسی، اجتماعی وژن اور انفرادی کردار ایک سمت میں چل پڑیں تو پسماندگی کا اندھیرا زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ یہی راستہ جموں کشمیر سمیت ہر اس معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہو سکتا ہے جو انسانیت کی معراج تک پہنچنے کا خواب دیکھتا ہے۔
Share this content:


