مادری زبانوں کا عالمی دن اور پاکستانی کشمیر میں پہاڑی زبان کا زوال

دنیا بھر کی طرح پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی آج 21 فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، تاہم خطے میں بولی جانے والی پہاڑی زبان دن بدن اپنی اہمیت کھوتی جا رہی ہے جس پر سماجی و قوم پرست حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق ایک وقت تھا جب خطے کے اسکولوں میں اساتذہ طلبہ کو اپنی مادری زبان یعنی پہاڑی میں لیکچر دیتے تھے اور بچے ایک دوسرے سے ماں بولی میں ہی بات چیت کرتے تھے۔ اسکولوں کے ساتھ ساتھ گھروں میں بھی والدین بچوں کے ساتھ اپنی مادری زبان میں گفتگو کرتے اور انہیں اس کے سیکھنے کی ترغیب دیتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ اس صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی اور مادری زبان کی بجائے قومی زبان کو ترجیح دی جانے لگی۔

نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ سرکاری شعبے میں بھی طلبہ اور اساتذہ پر زور دیا گیا کہ وہ ماں بولی کے بجائے قومی زبان استعمال کریں، جس کے باعث مقامی زبانیں پس منظر میں چلی گئیں۔ دیکھا دیکھی گھروں میں بھی والدین نے بچوں کے ساتھ مقامی بولیوں کے بجائے اردو اور انگریزی کو ترجیح دینا شروع کر دی۔

اس حوالے سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر باغ سے تعلق رکھنے والے شہری خورشید آکاش نے بتایا کہ جب وہ طالب علم تھے تو اسکولوں میں اساتذہ اور طلبہ کے درمیان پہاڑی زبان کا استعمال عام تھا۔ ان کے مطابق گھروں میں بھی یہی روایت موجود تھی اور والدین بچوں کو مادری زبان سکھانے کو اہم سمجھتے تھے۔ تاہم وہ موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج پہاڑی زبان اپنی اہمیت کھو رہی ہے اور نوجوان نسل بالخصوص نئی جنریشن اپنی مادری زبان کو بھولتی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ماں بولی کے عالمی دن کے موقع پر قوم پرست رہنما عابدین شاہین نے کہا کہ جموں کشمیر میں سامراجی قوتیں منصوبہ بندی کے تحت مقامی زبانوں اور بولیوں کو نظر انداز کر رہی ہیں۔

انہوں نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ اگر مادری زبانوں کو اہمیت نہ دی گئی تو ہماری ثقافت اور شناخت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی ماں بولیوں کو فروغ دیں، گھروں اور تعلیمی اداروں میں مقامی زبانوں کے استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ آنے والی نسلیں اپنی ثقافت، روایات اور زبان سے جڑی رہیں۔

Share this content: