عوامی حقوق کی تحریک، ترقی کے دعوے اور زمینی سچائی۔۔۔ خواجہ کبیر احمد

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر اعتراضات کا تنقیدی جائزہ

ریاست جموں کشمیر کی حالیہ سیاسی تاریخ میں اگر کسی عوامی پلیٹ فارم نے اشرافیہ کی مراعات، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور حکومتی شفافیت کے سوال کو مرکزِ بحث بنایا ہے تو وہ ہے پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی۔ اس تحریک کا بنیادی مطالبہ ابتدا ہی سے واضح رہا ہے کہ ریاستی وسائل پر چند مراعات یافتہ طبقات کی اجارہ داری کا خاتمہ اور عام شہری کے بنیادی حقوق کا تحفظ۔

تاہم اس عوامی جدوجہد کو ابتدا ہی سے مزاحمت، سرکاری تنقید اور بعض مواقع پر سخت ریاستی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ حال ہی مین پاکستان کے ایک وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس اس تحریک کو مزید شدت دے گی، جس میں انہوں نے یہ الزام لگایا کہ "جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ ہے اور وفاق (أنکے نزدیک) اربوں روپے کے منصوبے اس خطے میں دے رہا ہے۔”

یہ بیان بظاہر ترقی کے حق میں ایک مضبوط دعویٰ ہے، مگر اس کے ساتھ کئی بنیادی سوالات جڑے ہوئے ہیں۔

اربوں روپے کے دعوے اور شفافیت کا سوال بھی۔ پاکستان کے وفاقی وزیر نے اپنی گفتگو میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا حوالہ دیا، لیکن عوام کے ذہن میں سوال یہ ہے کہ ان منصوبوں کے عملی ثمرات کہاں نظر آتے ہیں؟

گزشتہ کئی دہائیوں سے خطے کے عوام اعلانات، پریس کانفرنسوں اور اخباری بیانات سنتے آئے ہیں۔ ہر دور میں ترقی کے نئے وعدے سامنے آئے، مگر زمینی سطح پر بنیادی مسائل بے روزگاری، بجلی کی قلت، صحت اور تعلیم کی ناکافی سہولیات بدستور موجود رہے۔

عوامی حلقوں کا مؤقف یہ ہے کہ اگر واقعی اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں تو اس کی مکمل تفصیل، آزاد آڈٹ، اور عوامی نگرانی کا نظام کیوں موجود نہیں؟ ترقی کا حقیقی پیمانہ کاغذی اعداد و شمار نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی میں آنے والی بہتری ہوتی ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد کا ایک اہم پہلو وہ پرامن مارچ اور جلسے رہے ہیں جن کے ذریعے عوام نے اپنے مطالبات پیش کیے۔ تاہم متعدد مواقع پر ان مظاہروں کے خلاف حکومتی سر پرستی میں طاقت کا استعمال کسی سے پوشیدہ نہیں ۔

عینی شاہدین اور مقامی رپورٹس کے مطابق لاٹھی چارج، شیلنگ اور گرفتاریوں کے واقعات نے فضا کو کشیدہ کیا۔ کئی کارکنان قید و بند کا سامنا کرتے رہے اور بعض جان لیوا واقعات جن میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان کی شہادتیں جو ایک تاریخ بن چکی ہیں نے تحریک کو مزید حساس مرحلے میں داخل کر دیا۔یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہےکہ اگر ایک تحریک پرامن انداز میں احتساب اور شفافیت کا مطالبہ کرے، تو اس کا جواب طاقت سے کیوں دیا جاتا ہے؟ کیا اختلافِ رائے کو رکاوٹ سمجھ لینا جمہوری رویہ ہے؟

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا بنیادی اعتراض ترقی کے تصور پر نہیں بلکہ اس کے طریقۂ کار پر ہے۔ کمیٹی کے مطابق اگر ترقیاتی فنڈز کا بڑا حصہ اشرافیہ، بیوروکریسی یا مخصوص سیاسی حلقوں تک محدود رہے اور عام شہری تک نہ پہنچے، تو اسے عوامی ترقی نہیں کہا جا سکتا۔

پاکستان کے وفاقی وزیر کا حالیہ پریس کانفرنس میں یہ کہنا کہ "ایکشن کمیٹی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہے”، ناقدین کے نزدیک زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک دراصل ان مراعات یافتہ ڈھانچوں کے لیے رکاوٹ ہے جو برسوں سے وسائل پر قابض رہے ہیں۔

اگر ترقی واقعی عوامی مفاد کے لیے ہے تو پھر سوال اٹھانے والوں سے مکالمہ کیوں نہیں؟ شفافیت سے خوف کیوں؟ اور آزادانہ آڈٹ یا نگرانی کے نظام کو مضبوط کیوں نہیں کیا جاتا؟سب سے بڑھکر یہ کہ اشرافیہ کی مراعات ختم کیوں نہین کی جاتیں؟

ایک اور اہم پہلو نمائندگی کا ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی امنگوں کی آواز قرار نہیں دیتی بلکہ عوام جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اپنا ترجمان مانتے ہیں اس کی مقبولیت اور عوامی شرکت اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ خطے میں ایک نیا سیاسی شعور ابھر رہا ہے، جو صرف نعروں پر نہیں بلکہ عملی احتساب پر زور دیتا ہے۔ریاستی جبر، گرفتاریوں اور منفی بیانیے کے باوجود اس تحریک کا جاری رہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ مسئلہ محض سیاسی اختلاف کا نہیں بلکہ گہرے معاشی اور سماجی عدم توازن کا ہے۔

خطے میں ترقی یقیناً ہونی چاہیے۔یہ اس خطے کے ہر انسان کا خواب ہے مگر سوال یہ ہے کہ ترقی کس کے لیے اور کیسے؟ اشرافیہ کی مراعات سیاسی مفادات اور اقرباء پروری کے لیے اربوں روپے کے منصوبے حقیقت میں ایک عام انسان کی ترقی کے ضمرے میں نہیں آتے۔

اگر اربوں روپے واقعی عوامی فلاح پر خرچ ہو رہے ہیں تو شفافیت اور احتساب سے گریز کی کیا وجہ ہے؟ اور اگر ایک عوامی پلیٹ فارم وسائل کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کرے تو اسے رکاوٹ کیوں قرار دیا جائے؟

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد نے کم از کم اتنا ضرور کیا ہے کہ اس نے ترقی، مراعات اور عوامی حقوق میں فرق کے سوال کو واضح فرق کے ساتھ مرکزی سیاسی موضوع بنا دیا ہے۔

اور تاریخ یہی بتاتی ہے کہ طاقت وقتی ہو سکتی ہے، مگر عوامی شعور دیرپا ہوتا ہے۔ اگر شفافیت اور انصاف کو ترجیح نہ دی گئی تو بیانات اور پریس کانفرنسیں وقتی اثر تو ڈال سکتی ہیں، مگر عوام کے اپنے بنیادی حقوق اور اپنے وسائل پر اپنےاختیارات کے سوالات کو خاموش نہیں کر سکتیں۔

٭٭٭

Share this content: