پاکستان کی جانب سے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کیے گئے فضائی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کارروائی دہشت گرد گروہوں کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئی۔
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جس میں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش خراسان کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں حالیہ خودکش حملوں کے پیچھے افغانستان میں موجود شدت پسند قیادت ملوث تھے۔بنوں میں 21 فروری کو ہونے والے حملے میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی ہلاک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کو بارہا کہا گیا کہ اپنی سرزمین دہشت گرد گروہوں کے استعمال سے روکے۔ کارروائی ’’دہشت گردوں کے خلاف دفاعی اقدام‘‘ تھی۔
پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ افغان طالبان پر دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔
افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے حکام نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ ضلع بہسود کے علاقے گردی کیچ میں شہاب الدین نامی شخص کے گھر پر حملے میں 20 کے قریب افراد مارے گئے، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔
متاثرہ خاندان کے ایک فرد نے کہا:
’’میرے بچے، میرا بھائی، میرا شوہر اور میری کنواری بیٹیاں سب مارے گئے۔‘‘
ننگرہار پولیس کے ترجمان سید طیب حماد نے طلوع نیوز کو بتایا کہ ایک ہی خاندان کے 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ملبے سے اب تک صرف چار افراد نکالے جا سکے ہیں۔
ننگرہار کے خوگیانی اور غنی خیل اضلاع سے بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
پکتیکا کے ضلع برمل میں بھی رات گئے ایک فضائی حملہ کیا گیا جس میں ایک مدرسے کو نشانہ بنایا گیا۔
رمضان کے باعث مدرسہ بند تھا، اس لیے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم عمارت اور کتابوں کو شدید نقصان پہنچا۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں مدرسے کی عمارت کا ایک حصہ تباہ دکھائی دیتا ہے۔
افغان وزارتِ دفاع نے ننگرہار اور پکتیکا میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ:
یہ حملے افغانستان کی قومی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان نے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔ ’’مناسب وقت پر بھرپور جواب دیا جائے گا‘‘
ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے کہا کہ یہ کارروائیاں ’’بین الاقوامی قوانین اور اچھے ہمسائیگی کے اصولوں کی خلاف ورزی‘‘ ہیں۔
طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی کہا کہ پاکستانی جرنیل ’’اپنی سکیورٹی ناکامیوں کا ملبہ افغانستان پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
پاکستان کے مطابق کارروائی دہشت گرد گروہوں کے خلاف تھی، جبکہ افغانستان کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں شہری مارے گئے۔
دونوں ممالک کے بیانات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، اور طالبان کے ’’جوابی کارروائی‘‘ کے اعلان نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
Share this content:


