حوثیوں کی جنگ میں شامل ہونے کی دھمکی کے بعد یمن سے اسرائیل پر میزائل حملہ

اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے اسرائیلی حدود کی جانب داغے گئے ایک میزائل کی نشاندہی کی ہے۔ خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد یمن سے داغا جانے والا یہ پہلا میزائل ہے۔

اسرائیلی فوج نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ ’آئی ڈی ایف نے یمن سے اسرائیلی علاقے کی جانب میزائل داغے جانے کی نشاندہی کی ہے اور فضائی دفاعی نظام اس خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

پندرہ منٹ سے بھی کم وقت بعد آئی ڈی ایف نے اعلان کیا کہ ملک بھر میں لوگ محفوظ پناہ گاہوں سے باہر آ سکتے ہیں۔

یہ پیش رفت اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے ترجمان نے کہا تھا کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو وہ مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل ہو جائیں گے۔

یمنی مسلح افواج (حوثی دھڑے) کے ترجمان یحییٰ سریع نے ٹیلیگرام پر بیان میں کہا کہ ’براہِ راست فوجی مداخلت کے لیے ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں‘ اور یہ اقدامات درج ذیل صورتوں میں کیے جائیں گے:

  • اگر کوئی اور ملک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے خلاف شامل ہوتا ہے
  • اگر بحیرۂ احمر کو ’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران یا کسی بھی مسلم ملک کے خلاف دشمنانہ کارروائیوں‘ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے
  • اگر ایران کے خلاف کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مؤقف ’امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران، فلسطین و غزہ، عراق اور لبنان کے خلاف جاری جارحیت‘ کے ردعمل میں اختیار کیا گیا ہے۔

Share this content: