حوثیوں کا ’المخا‘ بندرگاہ پر دوبارہ ’سعودی افواج کے ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

یمنی حکومت سے وابستہ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی جنگجوؤں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر المخا پر حملہ کیا ہے۔

یمنی فوج نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’حوثیوں نے شہر پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔‘

یمنی فوج کے مطابق ’حوثیوں نے شہر کی بندرگاہ پر موجود اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔‘

حوثیوں المخا پر ایک مرتبہ پھر شروع ہونے والے حملوں کے بعد یمنی بندرگاہ پر موجود یہ شہر ’المخا‘ ایک متربہ پھر سے خبروں میں ہے۔

چند ماہ قبل یمنی حکومت نے اس بندرگاہ کی ترقی اور جہازوں کے لنگر انداز ہونے اور تجارتی سامان کی سٹوریج کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کم ہونے والے اس کے تجارتی کردار کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔

،تصویر کا کیپشنیمن کا شہر المخا: فلیوری اور بلوندو کی بنائی ہوئی تصویر، جو نول دیورژے کی کتاب ’عربیہ‘ میں شامل تھی۔ یہ کتاب 1847ء میں پیرس سے شائع ہوئی تھی۔

بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت سے وابستہ دو فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں کی جانب سے گذشتہ کئی روز سے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ’المخا‘ پر میزائلوں اور ڈرونز کی مدد سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم آٹھ فوجی ہلاک اور 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ’حملے میں المخا میں موجود سعودی افواج کے اسلحے کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔‘ تاہم یمنی فوج کا کہنا ہے کہ ’حملے رہائشی علاقوں پر کیے گئے، جبکہ وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق بندرگاہ کے اندر شہری اور اقتصادی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔‘

حوثیوں کی جانب سے المخا میں جن تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اُن کی جانب سے جنھیں سعودی افواج کے ٹھکانے کہا جا رہا ہے ان کی بی بی سی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

المخا کی بندرگاہ یمن کے صوبے تعز کے مغرب میں واقع ہے۔ یہ آبنائے باب المندب سے تقریباً 65 سے 75 کلومیٹر شمال اور ’تعز‘ نامی شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق بندرگاہ بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے صرف تقریباً چھ کلومیٹر دور ہے، جو بحرِ ہند اور بحیرۂ عرب کو بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز سے ملاتی ہے۔

المخا شہر کی شہرت اس کی ’کافی‘ کی پیداوار سے شروع ہوئی۔ 16ویں صدی سے یہ یمن کی اہم ترین بندرگاہوں میں شمار ہونے لگا، جہاں یمن کے پہاڑی علاقوں میں پیدا ہونے والا اناج لایا جاتا اور پھر انڈیا، مشرقی افریقہ، سلطنتِ عثمانیہ اور یورپ کو برآمد کیا جاتا تھا۔

17ویں اور 18ویں صدی میں ڈچ، برطانوی اور فرانسیسی تجارتی کمپنیوں نے بھی شہر میں اپنے تجارتی مراکز قائم کیے۔ وقت کے ساتھ ’المخا‘ کا نام عالمی منڈیوں میں یمنی ’کافی‘ کے مترادف بن گیا۔ بعد میں یہی نام اس ’کافی‘ اور ’چاکلیٹ‘ سے بننے والے مشروب کے لیے بھی استعمال ہونے لگا جو آج دنیا بھر میں ’موکا‘ کے نام سے معروف ہے۔

بندرگاہ کی سرگرمیاں صرف ’کافی‘ تک محدود نہیں تھیں۔ یہاں سے لوبان، گوندِ مُر، ایلوویریا اور عرق سمیت مختلف اشیا برآمد کی جاتی تھیں، جبکہ انڈیا، مشرقی ایشیا اور افریقہ کا مشرقی علاقہ سے کپڑے، مصالحہ جات، مویشی اور دیگر مصنوعات درآمد کی جاتی تھیں۔

یورپی نوآبادیوں میں ایشیا اور امریکہ کے مختلف علاقوں میں ’کافی‘ کی کاشت شروع ہونے کے بعد المخا کی بندرگاہ اپنی اہمیت کھونے لگی۔ اس کے بعد سنہ 1839 میں برطانیہ کے ہاتھوں عدن پر قبضے اور عدن کی بندرگاہ کے عروج کے ساتھ ساتھ حدیدہ بندرگاہ کی ترقی نے بھی المخا کی تجارتی حیثیت کو مزید متاثر کیا۔

ان تبدیلیوں کے نتیجے میں المخا کا وہ کردار تقریباً ختم ہو گیا جو اسے صنعاء اور وسطی یمن کے لیے ایک اہم تجارتی راستے کے طور پر حاصل تھا۔

بندرگاہ کو جدید بنانے کا کام سنہ 1950 کی دہائی میں شروع جدید نوعیت کی تنصیبات سے آراستہ کیا گیا، جبکہ سنہ 1970 کی دہائی میں ان کی دوبارہ تعمیر اور توسیع کی گئی۔ بندرگاہ میں تقریباً 430 میٹر مجموعی لمبائی پر گودام، سٹوریج یارڈز، ایندھن لانے والے ٹینکروں کے لیے ایک پلیٹ فارم اور مویشیوں کے لیے قرنطینہ کی سہولت موجود ہے۔

بندرگاہ کو ایسے بنایا گیا ہے کہ یہاں سالانہ تقریباً 15 لاکھ ٹن سامن رکھنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم اس کے بحری راستے کی گہرائی 7.2 سے 7.8 میٹر کے درمیان ہے، جس کے باعث یہاں بڑے کنٹینر بردار جہازوں اور بڑے ٹینکروں کی آمد ممکن نہیں۔

اس کے علاوہ بندرگاہ کو سامان کی نقل و حمل کے آلات اور بحری خدمات کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ سمندری راستے کی مسلسل ڈریجنگ اور مرمت بھی ضروری ہے۔

یمن میں سنہ 2014 کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد بندرگاہ کی معمول کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔ بعد ازاں مغربی ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی پیش قدمی کے دوران بندرگاہ پر ان کا قبضہ ہو گیا، تاہم جنوری سنہ 2017 میں حکومت کے حامی فورسز نے اسے دوبارہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

اس وقت بندرگاہ ’نیشنل ریزسٹنس فورسز‘ کے کنٹرول میں ہے، جن کی قیادت طارق صالح کرتے ہیں۔ طارق صالح صدارتی قیادت کونسل کے رکن بھی ہیں۔

ستمبر سنہ 2021 میں بندرگاہ پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا گیا تھا۔ اس وقت بندرگاہ پر درآمدات کی دوبارہ واپسی کا عمل شروع ہونے کے قریب تھا۔ تاہم بندرگاہ پر حملے میں امدادی تنصیبات، گوداموں اور ایندھن کے ایک ٹینک کو شدید نوعیت کا نقصان پہنچا تھا۔

دسمبر سنہ 2025 میں یمنی حکومت نے المخا بندرگاہ کی ترقی کے لیے تقریباً 138.9 ملین ڈالر کی لاگت سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

منصوبے میں جہازوں کے لنگر انداز ہونے کی جگہ یعنی گھاٹ کی تعمیر جو کہ 280 میٹر طویل اور 12 میٹر گہری تھی، کنٹینر یارڈ، گوداموں اور اناج و سیمنٹ ذخیرہ کرنے کے لیے مناصب مقام کی تعمیر شامل ہے۔

حکومت کا مقصد منصوبے کی تکمیل کے بعد بندرگاہ کی سالانہ گنجائش بڑھا کر 22 لاکھ 75 ہزار ٹن اور سالانہ بنیادوں پر تقریباً 195 بحری جہازوں کی آمد و رفت تک پہنچانا ہے۔

Share this content: