پاکستانی فضائی حملہ: افغانستان میں ہلاک افراد کی اجتماعی تدفین، ہلاکتوں کی تعداد پر اختلاف برقرار

افغانستان کے دارلحکومت کابل میں جمعرات کے روز اُن افراد کی اجتماعی تدفین کی گئی جو 16 مارچ کو ہونے والے متنازع فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

افغان حکام کے مطابق اس مرحلے میں 60 افراد کو سپردِ خاک کیا گیا، جبکہ اس سے قبل 18 مارچ کو بھی 50 افراد کی اجتماعی تدفین کی جا چکی ہے۔

افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ رواں ماہ ہونے والے اس حملے میں منشیات کے عادی افراد کے علاج کے ایک اسپتال کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔

طالبان حکام نے اسے شہریوں پر حملہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان اس الزام کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ اس کے فضائی حملے مخصوص دہشت گرد ٹھکانوں اور اسلحہ ذخائر کے خلاف تھے، اور کسی شہری ہدف کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں 400 سے زائد افراد ہلاک اور 263 زخمی ہوئے، تاہم اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں نے ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی اور کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اور واقعے کی نوعیت سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

یہ واقعہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث بنا ہے بلکہ خطے میں سکیورٹی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی نئے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

Share this content: