ایرانی بلوچستان میں جھڑپوں کے دوران آئی آر جی سی کمانڈر جنرل حسین ظریفی ہلاک

ایران کی پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈر بریگیڈیئر جنرل حسین ظریفی جنوب مشرقی ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ہلاک ہونے والے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل حسین ظریفی سجاد بیس کے کمانڈر تھے۔

آئی آر جی سی کی زمینی فورس کے تحت قدس ریجنل بیس سے منسلک یہ یونٹ جنوب مشرقی ایران میں گارڈز کی شاخ ہے۔

قدس ریجنل بیس کے ایک بیان کے حوالے سے تسنیم نے کہا کہ ضلع سراوان میں ہونے والی جھڑپوں میں بریگیڈیئر جنرل ظریفی ہلاک ہوئے جبکہ پانچ عسکریت پسند بھی مارے گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ ظریفی ’دشمن سے وابستہ دہشت گرد عناصر کے ساتھ تصادم میں مارے گئے۔‘

گزشتہ روز شائع ہونے والی تسنیم کی ایک اور رپورٹ میں ان جھڑپوں کا ذمہ دار جیش العدل کو قرار دیا گیا تھا۔ اس گروپ نے 2025 میں دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ انضمام کے بعد اپنا نام تبدیل کر کے ’پیپلز ریزسٹنس فرنٹ‘ رکھ لیا تھا۔

سیستان و بلوچستان، جہاں ایران کی بلوچ آبادی کا ایک بڑا حصہ آباد ہے، ملک کے کئی دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ غربت اور کم ترقی کا شکار ہے۔

ماہرین کے مطابق سماجی و اقتصادی مشکلات، نسلی اور مذہبی تفاوت کے ساتھ مل کر، عوامی بے چینی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

گزشتہ چار دہائیوں کے دوران اس شورش زدہ صوبے میں عسکریت پسند گروہوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان بارہا جھڑپیں ہو چکی ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان سے ملحق سرحدوں پر منشیات اور دیگر اشیا کی سمگلنگ بھی ایک مسلسل مسئلہ رہی ہے۔

Share this content: