سمیرا جہانگیر سے زبردستی بیانات دلوانے کا انکشاف، اے آر وائی کی ویڈیو پروپیگنڈا ہے، شوہر

پاکستان زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں پرامن احتجاج کے دوران گرفتار کی گئی خاتون سمیرا جہانگیر کو جبری طور پر میڈیا کے سامنے پیش کر کے بیانات ریکارڈ کروانے کے معاملے پر ان کے بیرونِ ملک مقیم شوہر ذیشان کیانی سامنے آ گئے ہیں اور انہوں نے پاکستانی میڈیا کی ویڈیو کو زبردستی بنوایا گیا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ سمیرا کی ایک ویڈیو پاکستانی مین اسٹریم میڈیا (بشمول اے آر وائی نیوز) پر باقاعدہ نشر کی گئی تھی، جس میں ان سے یہ کہلوایا گیا کہ "انہیں زبردستی احتجاج میں شامل کیا گیا تھا تاکہ وہ بیرونِ ملک شہریت حاصل کرنے کے لیے اپنا کیس یا پروفائل بنا سکیں”۔

سمیرا کے شوہر ذیشان کیانی نے اس ویڈیو پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سمیرا سے جو باتیں کہلوائی گئی ہیں وہ مکمل طور پر زبردستی اور ذہنی دباؤ کے تحت بلوائی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ "کل مظفرآباد میں پرامن احتجاج کے دوران میری بیوی سمیت جن خواتین اور بچوں کو پولیس نے گرفتار کیا، انہیں شدید ذہنی ٹارچر اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر یہ ویڈیو زبردستی بنوائی گئی۔ میری بیوی اس وقت شدید ذہنی دباؤ (اسٹریس) میں ہیں اور وہ اپنے وکیل سے مشورے کے بعد جلد تمام حقائق پر مبنی اپنا تفصیلی بیان جاری کریں گی”۔

انہوں نے اپنے متعلق پھیلائے جانے والے الزامات کو بھی رد کرتے ہوئے کہاکہ "میرے بارے میں یہ جھوٹا پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے کہ میں اٹلی کی شہریت حاصل کرنے کے لیے یہ احتجاج چلا رہا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا اٹلی سے کوئی تعلق نہیں، میں پرتگال میں قانونی رہائشی حیثیت رکھتا ہوں اور وہیں مقیم ہوں، جس کا قانونی ثبوت میرے پاس موجود ہے۔ یہ سب عوامی تحریک کو بدنام کرنے اور اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے”۔

تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے خدشات کے مطابق، پاکستانی عسکری اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ اب بلوچستان کی طرز پر کشمیر میں بھی وہی پرانے ہتھکنڈے دوہرا رہی ہے۔ بلوچستان میں بھی طویل عرصے سے تحریکوں سے جڑے مرد و خواتین کے رشتہ داروں کو گرفتار کر کے، انہیں ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنا کر اور بلیک میل کر کے جبری بیانات دلوانے کا سلسلہ جاری ہے۔

اب یہی طریقہ کار آزاد کشمیر میں اپنایا جا رہا ہے جہاں خواتین کو گرفتار کر کے زبردستی کیمروں کے سامنے لایا جا رہا ہے، جبکہ پاکستانی میڈیا عوامی حقائق کو ظاہر کرنے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کے اس بے بنیاد پروپیگنڈے اور جبری بیانات کو نشر کرنے میں آلۂ کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔

Share this content: