بلوچستان کے ضلع قلات کے شہر منگچر میں بلوچ مسلح جنگجوؤں کی بڑی تعداد کے داخل ہونے، شہر کے مختلف حصوں کا کنٹرول سنبھالنے اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس کارروائی میں بلوچ خواتین جنگجوؤں کی بھی نمایاں اور متحرک موجودگی رپورٹ کی گئی ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق منگچر کی مرکزی شاہراہ اور تمام اہم داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر کے اسنیپ چیکنگ اور گشت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران پیش قدمی کرنے والی اور کمک کے طور پر آنے والی فورسز کی گاڑیوں کو سنگین حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد فورسز کے دستوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔
دوسری جانب مسلح تنظیم ‘بلوچستان لبریشن فرنٹ’ (BLF) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری ایک پریس ریلیز میں اس ہمہ جہت کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ کارروائی بی ایل ایف کی نو تشکیل شدہ یونٹ "کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن” (KAAD) کے سرمچاروں اور خواتین جنگجوؤں نے انجام دی ہے۔
منگچر میں ناکہ بندی کے بعد قلات اور مستونگ دونوں اطراف سے پیش قدمی کرنے والے پاکستانی فوج کے قافلوں اور امدادی دستوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد فوجی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ شدید جھڑپوں کے دوران فورسز کی 1 بکتر بند گاڑی سمیت 3 گاڑیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔
بی ایل ایف کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں سرمچاروں اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور اس معرکے کے تفصیلی جانی و مالی نقصانات سے متعلق باقاعدہ تفصیلی بیان جلد ذرائع ابلاغ کے لیے جاری کیا جائے گا۔
Share this content:

