بلوچستان کے ضلع سوراب کے علاقے گدر (گندان) میں عام آبادی پر پاکستانی فوج کی جیٹ طیاروں اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں کے بعد شدید عوامی اشتعال پھیل گیا ہے۔ واقعے کے خلاف لواحقین نے میتیں کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ (N-25) پر رکھ کر دھرنا دے دیا ہے، جس کے باعث تمام تر ٹریفک معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
مظاہرین اور مقامی آبادی نے پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (ISPR) کے دعوے کو سراسر جھوٹ اور ‘ڈرامہ’ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور اس واقعے کو بلوچ نسل کشی کا بھیانک ریاستی جنگی جرم قرار دیا ہے۔
مقامی ذرائع، پولیس اور امدادی ٹیموں کے مطابق بمباری کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد ہلاک اور 16 سے زائد شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں ڈی ایچ کیو (DHQ) اسپتال سوراب منتقل کیا گیا ہے۔ جاں بحق افراد میں خواتین، معمر افراد اور بچے شامل ہیں۔
اب تک جن جاں بحق افراد کی شناخت ممکن ہو سکی ہے ان میں راج بابو (زوجہ رسول بخش)، صفیہ (زوجہ نورجان)، 2 سالہ جلال (ولد نورجان)، شبیر احمد (ولد خداداد)، نورجان (ولد رسول بخش) اور کریم داد (ولد رسول بخش) شامل ہیں۔ (اس سے قبل مراد بانو زوجہ رسول بخش کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی تھی)۔
زخمیوں میں 7 کمسن بچے شامل ہیں جن میں 1 سالہ امیر، 1 سالہ عاصم، 2 سالہ ضیاء الرحمن، 3 سالہ راحبیہ، 4 سالہ حسینہ، 5 سالہ سادیہ اور 7 سالہ فاطمہ شامل ہیں۔
زخمیوں میں زہرہ بنت عبدالعزیز، شاہ سارہ، صابیہ، ہاجرہ سمیت 9 سے زائد مرد و خواتین شامل ہیں۔
مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور اب بھی کئی ہلاک افراد کی لاشیں فورسز کی تحویل میں ہیں جنہیں ورثاء کے حوالے نہیں کیا جا رہا۔
عوامی حلقوں کا الزام ہے کہ سیکیورٹی فورسز جائے وقوعہ کو کنٹرول میں لے کر تمام شواہد مٹانے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر اور ویڈیوز سے عام آبادی اور بچوں پر جیٹ طیاروں کی بمباری واضح طور پر ثابت ہوتی ہے۔
واقعے کے فوراً بعد ہلاک افراد کے لواحقین اور مقامی لوگوں نے میتوں کو سوراب مین چوک پر کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ (N-25) پر رکھ کر دھرنا شروع کر دیا۔ شاہراہ بلاک ہونے سے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات منظور نہیں ہوتے اور انصاف نہیں ملتا، دھرنا جاری رہے گا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے واقعے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا: "کیا یہ بچے شدت پسند نظر آتے ہیں؟ یہ معصوم بچے ہیں، آخر ان کا کیا قصور ہے؟ کیا بچوں کو قتل کرنے سے کبھی امن قائم ہو سکتا ہے؟”
انہوں نے مزید کہا: "کیا یہ فلسطین ہے؟ کیا یہ کشمیر ہے؟ نہیں، یہ بلوچستان ہے۔”
سمی دین بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے رہنما نے شہری آبادی، بالخصوص خواتین اور بچوں کی ہلاکت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بربریت کی مذمت کی اور واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے ردِعمل میں خواتین اور بچوں سمیت 27 افراد کے ہلاک ہونے کے ادعاؤں کو افسوسناک اور شرمناک قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت و یکجہتی کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ سوراب میں شدت پسند گاڑی میں نصب کرنے کے لیے دھماکہ خیز مواد تیار کر رہے تھے جو قبل از وقت پھٹ گیا۔
عسکری ترجمان کے مطابق کہ بارودی مواد کے دھماکے سے 8 مسلح افراد ہلاک اور قریب واقع رہائش گاہوں کو نقصان پہنچنے سے 3 شہری مارے گئے۔ سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس کے مشترکہ کلیئرنس آپریشن میں فرار ہونے والے مزید 10 مسلح افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 18 مسلح افراد مارے گئے ہیں جبکہ 2 فوجی زخمی ہوئے۔
تاہم، سوراب کے مظاہرین، ہلاک افراد کے لواحقین اور مقامی عوام نے عسکری ترجمان کے اس بیان کو لفاظی اور حقیقت کو چھپانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے یکسر رد کر دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
Share this content:


