بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کرفیونافذ، لاک ڈاؤن سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر

بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتِ حال اور سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر صوبے کے متعدد اضلاع میں کرفیو، نقل و حرکت پر پابندیاں اور بازاروں کی بندش نافذ کر دی گئی ہے، جس کے باعث شہریوں کی آمدورفت اور روزمرہ کے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ سوراب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضلع بھر میں 15 اگست تک رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ کرفیو کے اوقات روزانہ رات 8:00 بجے سے صبح 9:00 بجے تک ہوں گے۔

انتظامیہ نے شہریوں کو مقررہ اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنے اور سیکیورٹی ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے اپنے کسی بھی نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

ایک سینئر سرکاری اہلکار کے مطابق لسبیلہ شہر کے بھی بعض حصوں میں عوام کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل دیگر اضلاع میں بھی اسی نوعیت کی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔

ضلع قلات میں شام 6:00 بجے سے صبح 10:00 بجے تک نقل و حرکت پر پابندی عائد ہے۔اسی طرح ضلع خضدار میں رات 8:00 بجے سے صبح 10:00 بجے تک شہریوں کی آمدورفت پر پابندی ہے ۔

ضلع نوشکی میں غیر اعلانیہ کرفیو اور لاک ڈاؤن کی سی صورتِ حال ہے جہاں شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری اور دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔

فورسز کے اہلکار سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں جبکہ شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

راستوں کی بندش کے باعث سرکاری و نجی ملازمین دفاتر جبکہ اساتذہ اور طلبہ اسکولوں تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل ہونے کی وجہ سے عوام کو شدئد مشکلات اور مواصلاتی رابطوں میں کٹاؤ کا سامنا ہے۔

ضلع پنجگور میں بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث مرکزی چتکان بازار سمیت تمام چھوٹے بڑے مارکیٹ اور شاہراہیں بند رہیں۔

دکانداروں کے مطابق انہیں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بازار جانے سے روکا گیا۔

شاہراہوں کی بندش سے سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے اور آمدورفت کا نظام معطل ہو کر رہ گیا ہے۔

پنجگور اور نوشکی میں ان سخت سیکیورٹی اقدامات اور بندشوں کی مخصوص وجہ کے حوالے سے تاحال کسی بھی سرکاری يا غیر سرکاری ادارے کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

Share this content: