بلوچستان کے ضلع دُکی کی تحصیل نانا صاحب زیارت کے علاقے ‘پلڑی’ میں مسلح افراد نے ایک کنسٹرکشن کمپنی کے کیمپ پر بڑا حملہ کر کے ایک سیکیورٹی گارڈ کو ہلاک، 2 افراد کو زخمی اور 12 مزدوروں کو اغواء کر لیا ہے، جبکہ کیمپ میں موجود بھاری مشینری کو آگ لگا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
ایس پی دُکی منصور احمد بزدار کے مطابق، نامعلوم مسلح افراد اور کیمپ پر تعینات سول سیکیورٹی گارڈز کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے نتیجے میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والا ایک سول سیکیورٹی گارڈ محتاج الرحمان موقع پر ہی ہلاک ہو گیا، جبکہ دوسرا گارڈ عمران وزیر اور ایک مقامی راہگیر لطیف ترین زخمی ہو گئے۔
ایس پی کے دعوے مطابق مسلح افراد نے کیمپ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد وہاں موجود لیبرز کے شناختی کارڈز اور نقول چیک کیے۔ اس کے بعد 10 پنجابی اور 2 پشتون مزدوروں سمیت کل 12 افراد کو تحویل میں لے کر اپنے ساتھ نامعلوم سمت کی جانب لے گئے، جبکہ کیمپ میں موجود تمام گاڑیاں اور کنسٹرکشن مشینری نذرِ آتش کر دی گئی۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں پاکستانی حکمرانوں، بلوچستان انتظامیہ اور عسکری اداروں کی زیرِ نگرانی و سیکیورٹی بلوچ معدنیات اور قدرتی وسائل کی مبینہ لوٹ کھسوٹ اور شاہراہیں بنانے کا عمل بلا تعطل جاری ہے، جس کے فائدے یا منافع سے مقامی بلوچ قوم مکمل طور پر محروم ہے۔
اس استحصالی عمل پر بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمی قوتیں مسلسل اعتراض کرتی آئی ہیں اور وہ ان کمپنیوں، گاڑیوں، مالکان، تعمیراتی پروجیکٹس اور ان کی حفاظت پر مامور ریاستی فورسز اور گارڈز کو وقتاً فوقتاً اپنے حملوں کا نشانہ بناتی رہتی ہیں۔ ماضی میں ایسی کارروائیوں کے دوران مسلح تنظیمیں بھاری مشینری نذرِ آتش کرتی ہیں، فورسز پر حملے کرتی ہیں اور کام کرنے والے بیرونی اضلاع کے کارکنوں کو تحویل میں لے کر آئندہ بلوچستان نہ آنے کی سخت تنبیہ کے بعد رہا کر دیتی ہیںجنہیں پاکستانی ادارے مراعات اور سیکیورٹی کا لالچ دے کر بلوچستان لاتے ہیں۔
اس تاز ترین حملے اور 12 مزدوروں کے اغواء کی ذمہ داری تاحال کسی بلوچ مسلح تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔ دوسری جانب پولیس اور ایف سی نے علاقے کو گھیراؤ میں لے کر سرچ آپریشن شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
Share this content:


