فاکس نیوز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر عمان امریکہ کی انتظامیہ کی ایران کے ساتھ بات چیت میں ’رکاوٹ‘ بنا تو امریکہ اس پر بمباری کرے گا۔
نیٹ ورک کے ایک رپورٹر کے مطابق صدر ٹرمپ نے پیر کے روز ایک فون کال کے دوران یہ بات کہی۔ اسی گفتگو میں انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ساتھ ایک براہِ راست خفیہ رابطہ موجود ہے۔
بعد ازاں آئی آر جی سی نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت میں شامل نہیں ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے پیر کو کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاملے پر عمان کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل کے قریب ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) بھی پیر کو ختم ہو رہی ہے۔ یہ یادداشت دونوں ممالک کی جانب سے حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید مذاکرات جاری رکھنے کے عزم پر مبنی تھی۔
عمان، جو اس تنازع میں خود کو غیر جانبدار ملک قرار دیتا ہے، جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے متعدد حملوں کا سامنا کر چکا ہے۔ تاہم اب وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات میں کردار ادا کر رہا ہے۔
فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے بڑی حد تک اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر رکھا ہے، جس سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔ اس راستے کو دوبارہ کھولنا مذاکرات کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔
واشنگٹن بھی اس گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ فاکس نیوز کے رپورٹر ٹرے ینگسٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہا: ’اگر عمان راستے میں آیا تو ہم اس پر شدید بمباری کریں گے۔‘
اسی انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور آئی آر جی سی کے درمیان خفیہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے اس کی تردید کردی۔ آئی آر جی سی ایران میں ایک بڑی فوجی، سیاسی اور معاشی قوت سمجھی جاتی ہے۔
ترجمان نے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو میں کہا ’آئی آر جی سی کے حکام اور امریکیوں کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ٹرمپ کا یہ دعویٰ محض خیالی باتیں ہیں جو جنگ میں ناکامی اور بے بسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے وہم اور ڈراؤنے خوابوں کا نتیجہ ہیں۔‘
ٹرمپ کی یہ دھمکی اُس وقت سامنے آئی جب ایران نے پیر کے روز اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے دونوں فریقوں کے درمیان ایک سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’آمدورفت کے راستے کے نقشے کے بارے میں ایک مفاہمت طے پا گئی ہے۔‘
Share this content:


