فریڈم ہاؤس کی نئی رپورٹ جاری، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ‘غیر آزاد’ خطے قرار

بین الاقوامی انسانی حقوق اور جمہوری حقوق پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فریڈم ہاؤس (Freedom House) نے اپنی تازہ ترین سالانہ رپورٹ "فریڈم ان دی ورلڈ 2026” (Freedom in the World 2026) جاری کر دی ہے، جس میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر) کی سیاسی اور شہری آزادیوں کی صورتحال کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان علاقوں کو آزادی کے تناظر میں "غیرآزاد” (Not Free) کا درجہ دیا گیا ہے، جہاں بنیادی سیاسی حقوق، اظہارِ رائے اور عوامی احتجاج پر ریاستی اور انتظامی پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔

رپورٹ کے اہم نکات اور بنیادی حقائق:

سیاسی حقوق اور انتخاب کا حق (Political Rights):

فیصلہ سازی میں عوامی شمولیت کا فقدان: رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ خطے کی اہم ترین انتظامی، معاشی اور پالیسی سازی کے اختیارات مقامی اسمبلی کے بجائے اسلام آباد اور وفاقی اداروں کے پاس ہیں۔

سیاسی عمل پر پابندیاں: صرف ان جماعتوں اور امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے یا سیاسی عمل کا حصہ بننے کی اجازت دی جاتی ہے جو ریاست کے مقرر کردہ نظریاتی اور آئینی سانچے کی پاسداری کرتے ہیں، جبکہ خود ارادیت یا آزادانہ موقف رکھنے والی سیاسی تنظیموں کو شدید ہراساں کیا جاتا ہے۔

شہری آزادیاں اور آزادئ صحافت (Civil Liberties & Media):

صحافت پر سنسرشپ: مقامی صحافیوں، ایڈیٹرز اور میڈیا ہاؤسز کو شدید انتظامی دباؤ اور غیر مرئی سنسرشپ کا سامنا ہے۔ پاکستان کے قومی سلامتی کے بیانیے سے مختلف رپورٹنگ کرنے والے یا کرپشن و حقوق کی پامالیوں پر آواز اٹھانے والے صحافیوں کو دھمکیوں اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انٹرنیٹ اور مواصلات کی بندش: عوامی احتجاج، دھرنوں یا سیاسی بے چینی کے مواقع پر انٹرنیٹ سروسز اور موبائل نیٹ ورکس کی معطلی کو بطورِ ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔

عوامی احتجاج اور جبر (Right to Assembly):

عوامی ایکشن کمیٹی اور احتجاج دبانے کی کوششیں: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کی زیرِ قیادت مہنگائی، ٹیکسز اور بنیادی حقوق کے لیے اٹھنے والی تحاریک کو طاقت، جبری گرفتاریوں اور دفعہ 144 کے ذریعے روکنے کی کوششیں کی گئیں۔

فورسز کا استعمال: تعلیمی اداروں اور عوامی املاک پر سیکورٹی فورسز کا قبضہ اور پرامن مظاہرین پر لاٹھی چارج کے واقعات کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

حراست اور جبری گمشدگیاں:

رپورٹ میں فعال سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور قوم پرست رہنماؤں کو پولیس تحویل میں لینے، بلا جواز روپوش کرنے یا غیر قانونی حراست میں رکھنے کے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

کاشگل نیوز کا تجزیاتی نقطہ نظر:

فریڈم ہاؤس کی یہ رپورٹ اس بات کی واضح تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی بے چینی اور ایکشن کمیٹی جیسے عوامی پلیٹ فارمز کا ابھار محض وقتی نہیں، بلکہ دہائیوں سے جاری بنیادی سیاسی، معاشی اور انسانی حقوق کی محرومی کا نتیجہ ہے۔ عالمی اداروں کی جانب سے اس خطے میں آزادیوں کی زوال پذیر صورتحال کو اجاگر کرنا عالمی سطح پر مقامی عوامی مطالبات کی حقانیت کو تقویت دیتا ہے۔

Share this content: