پاکستان کا افغانستان پر بمباری ، بچوں اور خواتین سمیت 9 افراد ہلاک

افغانستان میں طالبان کی حکومت کا کہناہے کہ گذشتہ رات پاکستان نے ملک کے صوبوں کنڑ اور ہلمند میں فضائی حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ رات پاکستان نے صوبہ کنڑ کے علاقے چوغم اور ہلمند کے علاقے گرمسیر میں شہریوں کے گھروں پر فضائی بمباری کی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ان حملوں میں نو افراد ہلاک جبکہ 11 زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

انھوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ان حملوں میں ہلاک ہونے بچوں کی تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں تین گھر بھی تباہ ہوئے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی حکومت نے مذکورہ حملے کی تصدقی کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے افغانستان میں دو مقامات پر مبینہ ’عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں‘ کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے اور اس کے نتیجے میں متعدد شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپریشن ’غضب للحق‘ کے تسلسل اور شدت پسندوں، ان کے نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے شدت پسند تنظیموں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں پر منصوبہ بندی کے ساتھ فضائی حملے کیے گئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے افغانستان میں دو مقامات پر موجود شدت پسندوں کے ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ وزارتِ اطلاعات نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی انتہائی درستگی کے ساتھ انجام دی گئی۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان اہداف کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں 22 مبینہ شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔

وزارتِ اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں وہاں موجود بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ ہوا ہے۔

پاکستانی حکام کی جانب سے اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ یہ کارروائیاں افغانستان کے کس علاقے میں کی گئی ہیں۔

Share this content: