پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملک کی ہتھیار برآمد کی ضروریات پورا کرنے کے لیے ملکی دفاعی صنعتی ادارے میں دو نئے یونٹس کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا اس مقصد کے لیے پاکستان میں دو نئے پروڈکشن پلانٹ لگائے جائیں گے، تاکہ اسلحہ برآمد کرنے کے لیے ضرریات باآسانی پوری کی جا سکیں۔
فوجی سربراہ نے یہ بات ہفتے کے روز پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کے دورے کے موقع پر کہی ہے۔ ان کا کہنا تھا اپنے ہتھیار سازی کے شعبے میں وسعت لا کر وہ بین الاقوامی سطح سے ظاہر کی گئی پاکستانی ہتھیاروں میں دلچسپی کو پورا کرنے کے پیش نظر ایسا کرنا چاہتے ہیں۔
جنرل عاصم منیر نے آرڈیننس فیکٹری کی پیداواری استعداد کا جائزہ بھی لیا اور ہتھیار برآمد کرنے ضرورتیں اور اہداف پورا کرنے کے لیے اس کی استعداد کو مزید بڑھایا جاسکے۔
ان کا یہ دورہ فوجی ضرویات کے حوالے سے خود انحصاری کی طرف بڑھنے کی طرف پیش رفت کرنے کی ایک اہم کڑی تھا۔جنرل عاصم منیر کو متعلقہ حکام نے نئے پلانٹس کے سلسلے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا یہ ہماری خود انحصاری کے لیے کوششوں کا حصہ ہے اس سے ہماری دفاعی پیداوار بڑھانے کی جاری کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مغربی خبر رساں ادارے ‘ روئٹرز ‘ کے مطابق پاکستان کی اسلحے کی فروخت کے سلسلے میں 13 مختلف ممالک کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے۔ ان میں سے چھ سے آٹھ ملکوں کے ساتھ یہ بات چیت ایڈوانس سٹیج میں داخل ہو چکی ہے۔
مذکورہ ممالک کے ساتھ پاکستان اور چین کے مشترکہ طور پر بنائے گئے جنگی طیارے جے ایف 17 تھنڈر کے لیے بھی دوسرے ملکوں نے کافی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ علاوہ ازیں تربیتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے پاکستانی طیاروں میں بھی مختلف ملکوں نے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ نیز پاکستانی ساختہ ڈرونز اور ایئر ڈیفنس سسٹم ، ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی کار کردگی بھی ان ملکوں کے لیے متاثر کن رہی ہے۔
واہ فیکٹری کے دورے کے موقع پرعاصم منیر کو پی او ایف کو کارپوریشن بنانے کے لیے جاری کوششوں کے بارے میں بھی بریف کیا گیا۔اسی سال ڈیفنس انڈسٹریل پروڈکشن ریگو لیٹری اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ کاوش پاکستان کی دفاعی پیداوار کے ڈھانچے کی ری سٹرکچرنگ کے لیے کی گئی ہے۔ اس میدان میں نجی شعبے کی بھی شراکت داری بڑھے۔
یہ ‘ ڈیپرا’ نامی فورم اسی سال ماہ جون میں قائم کیا گیا ہے۔ تاکہ سرکاری فیکٹری اور نجی شعبے کی اسلحے کی پیداور کو نئے ریگو لیٹری سسٹم کے تحت منظم کیا جا سکے اور برآمدی شعبے کے لیے تیاری کی جاسکے۔
مسلح افواج کے ترجمان ادارے ‘آئی ایس پی آر’ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیرنے واہ فیکٹری کے دورے کے موقع پر مقامی طور پر تیار کیے گئے اسلحے کی آزمائش کا بھی مظاہرہ دیکھا۔
Share this content:


