نواب اکبر خان بگٹی کے یوم شہادت 26 اگست کے موقع پر بلوچستان بھر میں سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں فورسز کی نفری میں اضافہ کر کے متعدد راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔
صوبائی دارلحکومت کوئٹہ کی ضلعی انتظامیہ نے ریڈ زون جانے والے تمام راستوں کو بے نظیر فلائی اوور، چمن پھاٹک اور ملحقہ علاقوں میں ٹرک کھڑے کر کے بند کر دیا ہے، جبکہ فورسز کی بھاری نفری بھی ریڈ زون کے اطراف تعینات کر دی گئی ہے۔
بدھ کی شب مسلح افراد خاران شہر میں داخل ہوئے اور مختلف مقامات پر اسنیپ چیکنگ شروع کر دی۔
شہر کے وسط میں بڈو پل، بابِ خاران، سی پیک روڈ، ماڈل اسکول، سراوان روڈ سمیت مختلف مقامات پر مسلح افراد کی جانب سے اسنیپ چیکنگ کی گئی اور متعدد مقامات پر ناکے قائم کر کے گاڑیوں کی تلاشی لی گئی۔ اسی دوران شہر کے مختلف علاقوں سے وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) کی رہائش گاہ کے قریب تعینات پولیس اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا۔
حملے کے دوران پولیس اہلکار اپنی گاڑیاں چھوڑ کر موقع سے نکل گئے، جس کے بعد حملہ آوروں نے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ مسلح افراد نے سرکاری املاک کو نذرِ آتش کرتے ہوئے تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ چوکیوں اور سرویلنس ٹاور کو تباہ کرنے سمیت اہم شاہراہوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔
تاہم، فی الحال خاران میں ہونے والے واقعات کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔
دوسری جانب حکام نے بلوچستان میں آئندہ 24 گھنٹوں کو انتہائی حساس قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں، جبکہ 26 اگست کو موبائل انٹرنیٹ اور ڈیٹا سروس کی بندش سے متعلق بھی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔
26 اگست بلوچستان میں اہمیت کا حامل دن ہے اور خاران میں یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس روز بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کو 20 برس مکمل ہو رہے ہیں۔
نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد بلوچستان میں جاری آزادی کی تحریک میں بتدریج شدت آتی رہی ہے۔ ماضی میں اس تاریخ کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح تنظیموں کی جانب سے حملوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جس کے باعث حکام اس عرصے کو پہلے ہی حساس تصور کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ دو سال قبل 25 اور 26 اگست کی درمیانی شب بلوچ لبریشن آرمی نے بلوچستان بھر میں “آپریشن ہیروف اول” کے تحت سلسلہ وار حملوں کا آغاز کیا تھا، جس میں بی ایل اے کے فدائی ونگ مجید بریگیڈ، خصوصی دستوں ایس ٹی او ایس اور فتح اسکواڈ جیسے یونٹوں کے سینکڑوں جنگجوؤں نے حصہ لیا اور بیس گھنٹوں تک بلوچستان بھر میں حکومتی رٹ کو چیلنج کیے رکھا۔
Share this content:


