اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک کا کہنا ہے کہ سیکریٹری جنرل نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملوں پر گہری تشویش ہے۔
بدھ کے روز ان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری جنرل کو ’خاص طور پر شہری ہلاکتوں کی اطلاعات پر تشویش ہے، جن میں شادی کی ایک تقریب پر حملہ بھی شامل ہے۔ شہریوں پر حملے کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔‘
پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے دوجارک کا کہنا تھا ’سیکریٹری جنرل تمام فریقوں سے انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے، بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنے اور کسی بھی ایسے اقدام یا بیان سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہیں جو کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہو۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ سیکریٹری جنرل کا بدستور ماننا ہے کہ اس بحران کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
دوجارک کا کہنا ہے کہ سیکریٹری جنرل ’تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کی راہ پر واپس آئیں۔‘
چند روز قبل اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کرغزستان میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی تھی۔
اس سے قبل ایرانی ہلالِ احمر سوسائٹی نے دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو خط لکھ کر جنوبی ایران میں امریکی حملوں کی مذمت کی ہے، رپورٹس کے مطابق جن میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا۔
اپنے خط میں ہلالِ احمر نے کہا ہے کہ فضائی حملے میں ایک بچے سمیت چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ مزید 67 افراد زخمی ہوئے۔
ہلالِ احمر کے مطابق یہ حملہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے نو بجے اُس وقت ہوا جب سیریک کے علاقے کوہستک میں شادی کی ایک تقریب جاری تھی۔
ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں تنظیم نے کہا: ’زخمیوں میں سے بعض کی تشویشناک حالت کے پیشِ نظر ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔‘
Share this content:


