تحقیق و تحریر : خواجہ کبیر احمد
مجھےذاتی طور پر ہمیشہ سے تاریخی شخصیات کی زندگیوں کو پڑھنے، سمجھنے اور ان کے تاریخی کردار کو جاننے کا گہرا شوق رہا ہے جنہوں نے تاریخ کے دھارے کو موڑا۔ اسی علمی جستجو اور تلاش کے دوران میری نظر کردستان کی زہرہ دوغان کی زندگی پر پڑی، جس نے میرے دل و دماغ پر ایک گہرا اثر چھوڑا اور میں ان کی لرزہ خیز مگر باہمت داستان سے شدید متاثر ہوا۔ ان کے بارے میں پڑھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ زہرہ دوغان کی کہانی صرف ایک فرد کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ دنیا بھر کی ان تمام مظلوم اقوام کے دکھوں کا آئینہ ہے جہاں کی خواتین بدترین سیاسی و سماجی مصائب کا سامنا کر رہی ہیں۔
خاص طور پر جب میں نے غور کیا تو مجھے ریاست جموں و کشمیر اور کردستان کے حالات، جغرافیائی ستم ظریفی اور سیاسی جبر میں ایک گہری مماثلت نظر آئی، جس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کشمیر کی دھرتی پر بھی تو ایسی کئی "زہرہ دوغان” موجود ہیں جو خاموشی سے عزم و استقلال کا پہاڑ بنی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے ان دونوں خطوں کی باہمت خواتین کی زندگیوں کو یکجا کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی لازوال جدوجہد کا اعتراف کیا جا سکے اور اس مشترکہ تحریر کے ذریعے دنیا بھر کی، بالخصوص مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کی خواتین کی حوصلہ افزائی کی جا سکے، اور انہیں یہ پیغام دیا جا سکے کہ بدترین حالات میں بھی عزم کی شمع کو کیسے روشن رکھا جاتا ہے۔
زہرہ دوغان کی صورت میں عزم و حوصلے کی یہ داستان 1989ء میں ترکی کے کرد اکثریتی شہر دیار باقر سے شروع ہوئی، جہاں انہوں نے اپنی شناخت اور حقوق کی جنگ کو بہت قریب سے دیکھا اور اپنی آواز کو مظلوموں کا ہتھیار بنانے کے لیے صحافت اور آرٹ کا انتخاب کیا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ 2012ء میں ‘JINHA’ نامی نیوز ایجنسی کی مشترکہ بنیاد رکھنا تھا، جو ترکی کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی ایجنسی تھی جس کا تمام عملہ، رپورٹرز اور مینیجرز صرف خواتین تھیں تاکہ پسماندہ طبقات کے مسائل کو ان کی اپنی زبان اور نسوانی حساسیت کے ساتھ دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔
جب داعش نے عراق اور شام میں خواتین پر ظلم کے پہاڑ توڑے، تو زہرہ اپنی جان کی پروا کیے بغیر جنگی خطوط پر پہنچیں اور ان کی داستانوں کو "یزیدی خواتین کی چیخیں” کے عنوان سے دنیا کے سامنے پیش کیا، جس پر انہیں ترکی کا باوقار متین گوکتے پے جرنلزم ایوارڈ دیا گیا۔ زہرہ دوغان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان 2016ء میں شروع ہوا، جب وہ ترکی کے قصبے نصائبین میں جاری فوجی آپریشن کی رپورٹنگ کر رہی تھیں اور اس تباہی کو دیکھ کر انہوں نے ایک ڈیجیٹل پینٹنگ بنائی، جس میں ملبے کے ڈھیر پر لہراتے جھنڈوں اور فوجی گاڑیوں کو بچھوؤں کی شکل میں دکھایا گیا تھا۔ یہ پینٹنگ وقت کے حکمرانوں کو اتنی ناگوار گزری کہ عدالت نے اسے "دہشت گردی کا پروپیگنڈا” قرار دے کر زہرہ کو 2 سال، 9 ماہ اور 22 دن قید کی سزا سنا دی، مگر وہ یہ بھول گئے کہ سچا فن کسی قید کا محتاج نہیں ہوتا۔
جیل کے اندر زہرہ پر پینٹ، کینوس، برش اور یہاں تک کہ کاغذ استعمال کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی، لیکن یہی وہ وقت تھا جب وہ عزم اور حوصلے کا پہاڑ بن کر ابھریں اور جیل کی سختیوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے اپنے اردگرد کی چیزوں کو اپنا کینوس بنا لیا۔ پینٹ نہ ہونے پر انہوں نے کھانے میں ملنے والی ہلدی، کافی کے قوام، سگریٹ کی راکھ، چائے کی پتی، اور باغیچے کی جڑی بوٹیوں کو پیس کر رنگ بنائے، اور خواتین کے درد اور قید کی سختی کو نمایاں کرنے کے لیے انہوں نے اپنے ایامِ ماہواری کے خون کو بھی کینوس پر اتارا۔ انہوں نے جیل کے صحن میں گرنے والے پرندوں کے پروں اور اپنے بالوں کو باندھ کر پینٹنگ برش تیار کیے اور کینوس کی جگہ پرانے اخباروں، گتے کے ڈبوں، تولیوں اور بستر کی چادروں کا استعمال کرتے ہوئے درجنوں شاہکار تخلیق کیے۔
انہوں نے جیل کے اندر دیگر خواتین قیدیوں کے ساتھ مل کر ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خفیہ اخبار "اوذکور گوندم زندان” (Free Agenda Dungeon) بھی نکالنا شروع کر دیا، جو بیرونی دنیا تک پہنچایا جاتا تھا۔ ان کی اس خاموش لیکن طاقتور مزاحمت نے جیل کی دیواریں توڑ کر بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچا دی اور دنیا کے مشہور ترین اسٹریٹ آرٹسٹ بینکسی (Banksy) نے نیویارک کی ایک دیوار پر 70 فٹ طویل مروال بنا کر زہرہ کی قید کے دنوں کا حساب دنیا کے سامنے رکھا۔ 2019ء میں جیل سے رہائی کے بعد بھی زہرہ کے لیے خطرات ختم نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے انہیں جلاوطنی اختیار کر کے جرمنی کے شہر برلن میں مقیم ہونا پڑا، جہاں سے وہ اب بھی اپنے فن کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کی مظلوم خواتین اور کرد عوام کی جنگ لڑ رہی ہیں۔
کردستان کی زہرہ دوغان کی اس لازوال داستان کا دوسرا رخ ہمیں ریاست جموں و کشمیر کی وادی میں دیکھنے کو ملتا ہے، جہاں کی خواتین نے بھی بالکل اسی طرح بدترین فوجی محاصرے، قید و بند اور ریاستی عتاب کا سامنا کرتے ہوئے عزم کی نئی تاریخ رقم کی ہے اور یہی وہ مماثلت ہے جس نے مجھے ان دونوں خطوں کو ایک لڑی میں پرونے پر آمادہ کیا۔ کشمیر میں پروینہ آہنگر، جنہیں ‘کشمیر کی آئرن لیڈی’ کہا جاتا ہے، کی پرامن زندگی 1990ء میں اس وقت اجڑ گئی جب ان کے کم عمر بیٹے کو سیکیورٹی فورسز نے گھر کے باہر سے زبردستی حراست میں لیا اور وہ پھر کبھی واپس نہ آیا۔
اپنے بیٹے کی تلاش میں انہوں نے تھانوں اور عدالتوں کے چکر کاٹے اور جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ اکیلی نہیں ہیں بلکہ ہزاروں ایسی مائیں ہیں جن کے بچے لاپتہ ہو چکے ہیں، تو انہوں نے 1994ء میں ‘ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس ایپیرڈ پرسنز’ (APDP) کی بنیاد رکھی۔ پروینہ نے ان خواتین کو متحد کیا جن کے شوہر لاپتہ تھے، جنہیں کشمیر میں ہاف-وڈوز (Half-Widows) کہا جاتا ہے، اور سری نگر کے پارکوں میں خاموش احتجاج کرتے ہوئے جبر کے خلاف عدم تشدد کی ایک ایسی بڑی علامت بن گئیں جس کی گونج بین الاقوامی سطح تک پہنچی اور انہیں دنیا کے معتبر رافتو پرائز (Rafto Prize) سے بھی نوازا گیا۔( رافٹو انعام ناروے کا ایک معروف بین الاقوامی انسانی حقوق کا اعزاز ہے، جو رافٹو انسانی حقوق فاؤنڈیشن ہر سال ایسے فرد یا تنظیم کو عطا کرتی ہے جو انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی کے دفاع کے لیے نمایاں اور پُرامن جدوجہد کر رہی ہو۔)
اسی طرح کشمیر کی نوجوان خاتون فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرہ کی جدوجہد تو زہرہ دوغان کے کیس سے اس حد تک مماثلت رکھتی ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے، جنہوں نے کشمیر جیسے انتہائی کٹھن اور مردوں کے غلبے والے خطے میں کیمرہ اٹھانے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا۔
مسرت زہرہ سرینگر کے پرانے شہر میں پیدا ہوئیں اور کشمیر میں بطور آزاد فوٹو جرنلسٹ کام کرتی رہی ہیں۔ ان کی تصاویر واشنگٹن پوسٹ، الجزیرہ، دی کارواں، دی نیو ہیومینیٹیرین اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی ہیں۔ ان کا خاص فوکس خواتین، بچوں، تنازع کے انسانی اثرات اور کشمیری معاشرے کی روزمرہ زندگی پر رہا ہے۔
2020 میں انہیں انٹرنیشنل ویمنز میڈیا فاؤنڈیشن کا "انجا نڈرنگ ہاؤس جرأتِ عکاسی کا انعام” دیا گیا۔ یہ انعام دنیا بھر میں خطرناک حالات میں کام کرنے والی خاتون فوٹو جرنلسٹس کی بہادری اور صحافتی کام کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ اسی سال انہیں پیٹر میکلر جرأت مندانہ اور اخلاقی صحافت کا انعام بھی ملا۔
2020 میں بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی پولیس نے ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ پولیس کا الزام سوشل میڈیا پر مبینہ ’’ملک دشمن‘‘ مواد پوسٹ کرنے سے متعلق تھا؛ مسرت زہرا نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنی صحافتی تصاویر ہی شائع کر رہی تھیں۔ بعد میں وہ کشمیر سے باہر چلی گئیں اور دستیاب معلومات کے مطابق اب امریکہ میں مقیم ہیں، جہاں وہ تنازع، نقل مکانی اور تارکینِ وطن کی زندگیوں پر بھی کام کر رہی ہیں
مسرت نے تنازعے کے دوران کشمیری خواتین اور بچوں پر ٹوٹنے والے مظالم اور ان کی روزمرہ زندگی کو اپنے کیمرے میں قید کیا اور ان کا کام عالمی میڈیا میں شائع ہوا۔ بالکل زہرہ دوغان کی پینٹنگ کی طرح، مسرت زہرہ کی کھینچی گئی سچی تصاویر بھی مقتدر حلقوں کو ہضم نہ ہوئیں اور 2020ء میں ان پر بھارت کے انسدادِ دہشت گردی کے سخت قانون (UAPA) کے تحت مقدمہ دائر کر کے ان پر ملک دشمن سرگرمیوں کا الزام لگایا گیا۔
ان کے علاوہ آسیہ اندراہی اور فہمیدہ صوفی جیسی خواتین نے دہائیوں تک تہاڑ جیل جیسی ہائی سیکیورٹی جیلوں میں شدید علالت اور بنیادی انسانی حقوق کی عدم فراہمی کے باوجود اپنے نظریات پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر کے کرد خواتین قیدیوں کی طرح ثابت قدمی کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔
کردستان اور کشمیر دونوں خطوں کی تاریخ اور ان باہمت خواتین کی زندگی یہ ثابت کرتی ہے کہ جب کبھی مظلوم اقوام پر ریاستی دباؤ بڑھا، تو وہاں کی خواتین نے صرف آنسو بہانے کے بجائے خود آگے بڑھ کر تحریکوں، صحافت اور سماجی جدوجہد کی قیادت سنبھالی اور خوف کے بت کو پاش پاش کر دیا۔ زہرہ دوغان، پروینہ آہنگر ،آسیہ اندرابی اور مسرت زہرہ کی داستانیں دنیا بھر کی پسماندہ خواتین کو یہ آفاقی پیغام دیتی ہیں کہ عزم، حوصلہ اور طاقت کسی صنف یا مادی وسائل کی محتاج نہیں ہوتی، اور اگر انسان کے پاس سچائی کا راستہ ہو تو وہ کینوس اور پینٹ نہ ہونے پر بھی اپنے خون اور استقلال سے تاریخ لکھ سکتا ہے۔ میرے لیے یہ تمام خواتین عزم اور جدوجہد کا وہ ہمالیہ ہیں جن کے سامنے ظلم کے تمام ضابطے ہیچ ہو جاتے ہیں، اور یہ تحریر ان کی اسی جراتِ رندانہ کا ادنیٰ سا اعتراف ہے تاکہ ان کی روشنی سے دیگر مظلوم خواتین بھی اپنے اندھیروں کو مٹانے کا حوصلہ پا سکیں۔
***
Share this content:


