ڈونلڈ ٹرمپ کا جلد ہی ایران میں کوہ کلنگ پر حملے کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ممکنہ طور پر بہت جلد ایران میں واقع کوہ کلنگ (جسے مغربی ذرائع ابلاغ میں پکیکس ماؤنٹین بھی کہا جاتا ہے) پر حملہ کر سکتا ہے۔

یہ زیرِ زمین سرنگوں کا ایک کمپلیکس ہے جو نطنز کی جوہری تنصیبات کے قریب واقع ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ خلا کے شعبے میں سب سے آگے ہے، ’ہمیں ہر اس فرد کے بارے میں معلوم ہے جو کوہ کلنگ میں حرکت کر رہا ہے، ہمیں ایران بھر میں ہر فرد کی نقل و حرکت کا علم ہے۔‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو ہم انھیں (ایران کو) نشانہ بنائیں گے، ہم انھیں شدت سے نشانہ بنائیں گے۔‘

صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا؛ ’اگر ہم وہاں مداخلت نہ کرتے تو آج اسرائیل موجود نہ ہوتا، مشرقِ وسطیٰ موجود نہ ہوتا، اور غالب امکان ہے کہ اس کے بعد وہ یورپی شہروں اور ہمارے شہروں کو بھی نشانہ بناتے۔ لیکن ہم نے انھیں جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا۔‘

امریکی صدر نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکہ کے لیے ’کوئی بڑی بات نہیں‘ ہے۔

اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کو ’جنگ‘ قرار نہیں دیتے۔

جمعے کے روز ایک صحافی نے سوال کیا کہ اگر ایران کے ساتھ تنازع ’جنگ‘ نہیں تو پھر اسے کیا کہا جائے؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا: ’دیکھیں، بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں کہتے۔ میں اسے ایک فوجی تنازع کہتا ہوں کیونکہ ہمارے لیے یہ نسبتاً ایک چھوٹا معاملہ ہے۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ ہم نے وینزویلا میں کارروائی کی تھی، وہاں ہمارا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایران کے ساتھ تنازع میں ہم نے 18 افراد کو کھویا۔ ویتنام میں ہم نے ایک لاکھ افراد کو کھویا تھا۔‘

Share this content: