بلوچ / کاشگل نیوز
پاکستان زیر انتظام جموں و کشمیر کے علاقے بلوچ، ضلع سدھنوتی سے تعلق رکھنے والا نوجوان اویس ولد ابراہیم، جو پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج تھا، آج رات زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
اہلِ خانہ کے مطابق، اویس کی میت حاصل کرنے کے لیے انہیں پنجاب پولیس کو 30 ہزار روپے ادا کرنا پڑے۔
اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ میت کی حوالگی کے لیے رقم طلب کی گئی، جس پر انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، واقعے کی مکمل تفصیلات، فائرنگ کے محرکات اور میت کی حوالگی کے حوالے سے عائد الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
یاد رہے کہ کشمیر میں بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جاری عوامی تحریکوں کو کچلنے کے لیے گزشتہ تقریباً تین مہینوں سے مکمل کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اس دوران فورسز نے 100 سے زائد نہتے افراد کو براہ راست گولیوں کا نشانہ بنا کر قتل عام کیا ہے، جو کہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ علاوہ ازیں، سینکڑوں افراد جبری گمشدگی کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کر کے زندانوں میں قید کیا گیا ہے۔
Share this content:


