تحریر: خواجہ کبیر احمد
تہاڑ جیل کی بلند و سنگین دیواروں کے پیچھے سے ایک ایسی آواز بلند ہوئی ہے جسے صرف بھارت نہیں بلکہ پوری دنیا کو سننا ہوگا۔ یہ کسی عام قیدی کی آواز نہیں بلکہ ریاست جموں و کشمیر کے عظیم آزادی پسند رہنما محمد یاسین ملک کی آواز ہے، جو برسوں سے بھارتی ریاست کی قید میں ہیں اور جنہوں نے حال ہی میں عدالت کے سامنے اپنے لیے سزائے موت کی درخواست پیش کرکے ایک ایسا سوال دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے جس کا تعلق صرف ان کی اپنی زندگی سے نہیں بلکہ انصاف، انسانی حقوق، جمہوریت، سیاسی آزادی اور جموں و کشمیر کے دیرینہ سیاسی مسئلے سے بھی ہے۔
یاسین ملک نے 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ عدالت میں پیش کیا ہے جس میں انہوں نے 1990 میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کی ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس مقدمے کی مزید پیروی نہیں کرنا چاہتے اور عدالت اگر انہیں سزا دینا چاہتی ہے تو انہیں سزائے موت دی جائے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے واضح کیا ہے کہ مقدمہ مزید نہ لڑنے کے ان کے فیصلے کو استغاثہ کے الزامات، کسی واقعے یا اپنے جرم کا اعتراف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یوں ایک انتہائی غیر معمولی صورتحال سامنے آتی ہے کہ ایک شخص اپنے خلاف لگائے گئے بنیادی الزام سے انکار کر رہا ہے، لیکن ساتھ ہی عدالت سے اپنے لیے موت کی سزا مانگ رہا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ایک حساس اور ذمہ دار دنیا کو رک کر سوچنا ہوگا کہ آخر ایک انسان کس ذہنی، انسانی اور قانونی کیفیت میں پہنچ کر اپنی زندگی کے خاتمے کی درخواست کرتا ہے۔
یاسین ملک کی سیاست اور ان کے ماضی کے بارے میں اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ان کے سیاسی مؤقف سے اتفاق یا اختلاف ہر شخص کا حق ہے۔ ان کے ماضی کے بعض فیصلوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن کسی انسان کے بنیادی حقوق کا انحصار اس بات پر نہیں ہونا چاہیے کہ ریاست اس کے سیاسی نظریے کو پسند کرتی ہے یا نہیں۔ کسی بھی جمہوری اور مہذب معاشرے میں اصول واضح ہے کہ الزام جرم نہیں ہوتا، مقدمہ جرم ثابت ہونے کے برابر نہیں ہوتا اور ریاستی طاقت انصاف کا متبادل نہیں بن سکتی۔ اگر کسی شخص پر سنگین جرم کا الزام ہے تو اس کا شفاف، غیر جانب دار اور منصفانہ ٹرائل ہونا چاہیے، اسے اپنے دفاع کا مکمل حق ملنا چاہیے اور اگر جرم ثابت ہو تو قانون کے مطابق فیصلہ ہونا چاہیے۔ لیکن اگر جرم ثابت نہ ہو تو سزا دینا انصاف نہیں بلکہ بد ترین ناانصافی ہوگی۔
یاسین ملک کے تازہ حلف نامے میں سرلا بھٹ کے قتل میں اپنے کردار کی تردید اسی تناظر میں اہم ہے۔ وہ اس قتل میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں اور اپنے خلاف اس مقدمے کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہیں۔ سرلا بھٹ ایک انسانی جان تھیں اور ان کے قتل کی بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور متاثرہ خاندان کو انصاف ملنا چاہیے۔ کشمیری پنڈتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن انسانی حقوق کا عالمگیر اصول یہ ہے کہ ایک جرم کا جواب دوسرے بنیادی حقوق کی پامالی نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی کے خلاف الزام ہے تو اس الزام کو قابلِ اعتماد شواہد کے ذریعے عدالت میں ثابت کیا جائے۔ انسانی جان کی حرمت کسی مذہب، قوم، علاقے یا سیاسی وابستگی سے مشروط نہیں ہو سکتی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں بھارت کے دعوائے جمہوریت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، لیکن جمہوریت صرف انتخابات، پارلیمنٹ، اکثریتی حکومت اور آئینی اداروں کا نام نہیں۔ جمہوریت کی اصل روح اس وقت سامنے آتی ہے جب ریاست کے سامنے کوئی ایسا شخص کھڑا ہو جو ریاست کے مؤقف سے اختلاف کرتا ہو، جو اپنے خطے کے سیاسی مستقبل کے بارے میں مختلف رائے رکھتا ہو یا جو ریاست کی پالیسیوں کو چیلنج کرتا ہو۔ ایک بڑی جمہوریت کی اصل طاقت اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخالف کے ساتھ بھی قانون، انصاف، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے مطابق برتاؤ کرے۔
یاسین ملک کی سیاسی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ماضی میں مسلح جدوجہد سے وابستہ رہے، لیکن بعد کے دور میں انہوں نے مسلح راستہ ترک کرکے سیاسی اور پرامن ذرائع سے کشمیر کے مسئلے کے حل کی بات کی۔ ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ اگر ایک سیاسی تنازع کو حل کرنا مقصود تھا تو کیا ہر اختلاف کا جواب جیل، مقدمہ، عمر قید اور پھانسی ہے؟ اگر کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے تو اس کا حل بھی سیاسی ہونا چاہیے۔ کسی سیاسی سوال کو صرف فوجداری مقدمات میں تبدیل کرکے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
یاسین ملک کے معاملے کا سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو شاید وہ ہے جو عدالت کی فائلوں میں پوری شدت کے ساتھ نظر نہیں آتا، اور وہ ہے ان کا خاندان۔ یاسین ملک اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ ان کی تین بہنیں ہیں۔ ان کے والد پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور ان کی عمر رسیدہ والدہ آج اپنے اکلوتے بیٹے کی جدائی اور اس کے مستقبل کی فکر کا بوجھ اٹھا رہی ہیں۔ ایک ماں کے لیے اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ اس کا اکلوتا بیٹا برسوں سے جیل کی دیواروں کے پیچھے ہو اور پھر یہ خبر سامنے آئے کہ اس نے عدالت سے اپنے لیے موت کی سزا مانگ لی ہے؟
یہ صرف ایک سیاسی قیدی کی کہانی نہیں۔ یہ ایک بوڑھی ماں کی کہانی ہے جو اپنے اکلوتے بیٹے کی واپسی کی منتظر ہے۔ یہ تین بہنوں کی کہانی ہے جو اپنے بھائی کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں۔ یہ یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک کی کہانی بھی ہے، جو برسوں سے اپنے شوہر کی قید، اپنی بیٹی کی اپنے والد سے محرومی اور ہر لمحے منڈلاتے خطرے کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ مشعال ملک نے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے مسلسل آواز اٹھائی ہے، مگر ایک بیوی اور ماں کی حیثیت سے وہ خود بھی اس طویل جدائی اور بے یقینی کا ناقابلِ تصور دکھ برداشت کر رہی ہیں۔ اور یہ یاسین ملک کی اکلوتی بیٹی، تیرہ سالہ رضیہ سلطانہ کی کہانی بھی ہے، جس کے لیے اس کا باپ محض ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ اس کا باپ، اس کی محبت، اس کا سہارا اور اس کی زندگی کا ایک بنیادی رشتہ ہے۔ ایک بچے کے بچپن کے وہ برس جو والدین کی قربت میں گزرنے چاہئیں، اگر وہ جیل کی دیواروں اور ملاقاتوں کی پابندیوں میں گزر جائیں تو اس محرومی کو کسی قانونی دفعہ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
ایک طرف عمر رسیدہ ماں اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے پریشان ہے، دوسری طرف تین بہنیں اپنے اکلوتے بھائی کے مستقبل سے خوفزدہ ہیں، ایک بیوی اپنے شوہر کی طویل قید کا کرب برداشت کر رہی ہے اور دوسری طرف ایک تیرہ سالہ بچی اپنے باپ کی قربت سے محروم ہے۔ یوں ایک شخص کی قید پورے خاندان کی قید بن چکی ہے۔ اور اب جب یہی شخص عدالت کے سامنے اپنے لیے موت کی سزا کی درخواست کرتا ہے تو دنیا کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس نے کیا کہا؛ دنیا کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ایک انسان کو اس مقام تک پہنچانے والی صورتحال کیا ہے۔
کسی قیدی کا اپنے لیے موت مانگنا خود ایک غیر معمولی انسانی حقوق کا الارم ہے۔ ایک مہذب نظام انصاف کو صرف درخواست کے الفاظ نہیں دیکھنے چاہئیں بلکہ اس درخواست کے پس منظر کو بھی دیکھنا چاہیے۔ کیا ایک شخص نے امید کھو دی ہے؟ کیا طویل قید، خاندان سے دوری، مسلسل مقدمات اور سیاسی تنہائی نے اسے اس مقام تک پہنچایا ہے؟ کیا اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے لیے قانونی راستے بند ہو چکے ہیں؟ کیا اسے انصاف ملنےکی امید باقی نہیں رہی؟ یہ وہ سوالات ہیں جنہیں نظر انداز کرنا کسی بھی نظامِ انصاف کے لیے خطرناک ہوگا۔
یاسین ملک پہلے ہی بھارت میں ایک دوسرے مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ 2022 میں انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی، جبکہ ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی قانونی کوشش بھی سامنے آ چکی ہے۔ اب 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ایک مرتبہ پھر ان کا نام سامنے آیا ہے۔ ایک شخص جس نے برسوں جیل میں گزار دیے، جسے ایک مقدمے میں عمر قید ہو چکی ہے اور جسے مزید مقدمات کا سامنا ہے، جب وہ عدالت کے سامنے کہتا ہے کہ اب مجھے موت دے دو، تو یہ صرف ایک عدالتی کارروائی نہیں رہتی بلکہ ایک گہرا انسانی اور اخلاقی سوال بن جاتی ہے۔ یہ سوال صرف بھارت سے نہیں بلکہ عالمی برادری سے بھی ہے۔
اقوام متحدہ کہاں ہے؟ یورپی یونین کہاں ہے؟ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟ دنیا کی بڑی جمہوریتیں کہاں ہیں؟ اگر انسانی حقوق واقعی عالمگیر ہیں تو ان کا اطلاق سیاسی وابستگی دیکھ کر نہیں ہونا چاہیے۔ اگر زندگی کا حق بنیادی انسانی حق ہے تو وہ ایک بھارتی شہری کے لیے بھی ہے، ایک کشمیری پنڈت کے لیے بھی اور ایک کشمیری مسلمان کے لیے بھی۔ اگر منصفانہ ٹرائل بنیادی حق ہے تو وہ یاسین ملک کے لیے بھی ہے۔
یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی سامنے آتی ہے، اور وہ ہے پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی سیاسی بے اختیاری۔ ذرا تصور کیجیے کہ اگر آج پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں ایک ایسی بااختیار قانون ساز اسمبلی موجود ہوتی جسے اپنے عوام کی حقیقی نمائندگی اور مکمل سیاسی اختیار حاصل ہوتا، اگر وہاں ایک ایسی بااختیار منتخب حکومت ہوتی جو اپنے عوام کے بنیادی سیاسی اور انسانی حقوق کی عالمی سطح پر مؤثر ترجمانی کر سکتی، تو کیا یاسین ملک کے معاملے میں صورتحال مختلف نہ ہوتی؟
ایک بااختیار حکومت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں سے رابطہ کر سکتی تھی۔ وہ یورپی یونین کے اداروں تک پہنچ سکتی تھی۔ وہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے اپنا مؤقف رکھ سکتی تھی۔ وہ دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں جا کر یہ سوال اٹھا سکتی تھی کہ ایک کشمیری سیاسی رہنما کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ لیکن جب ایک خطے کی سیاسی حکومت خود اپنے بنیادی سیاسی اور خارجی اختیارات کے سوال سے دوچار ہو تو وہ عالمی سطح پر اپنے عوام کے حقوق کی مؤثر ترجمانی کس قوت سے کر سکتی ہے؟
جو خود بولنے کے اختیار سے محروم ہو، وہ دوسرے کے لیے عالمی سطح پر کتنی بلند آواز میں بول سکتا ہے؟
یہی وہ خلا ہے جو یاسین ملک کے معاملے میں آج شدت سے محسوس ہو رہا ہے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی سیاسی قیادت اگر مکمل بااختیار ہوتی، اگر اس کے پاس اپنے عوام کی حقیقی نمائندگی اور عالمی سطح پر اپنے لوگوں کے حقوق کی ترجمانی کا اختیار ہوتا، تو یاسین ملک کے معاملے میں بھی ایک مضبوط، منتخب اور عوامی آواز دنیا کے سامنے موجود ہوتی۔ لیکن اگر حکومتیں محدود اختیارات کے ساتھ کام کریں، اگر ان کی خارجہ پالیسی اور بنیادی سیاسی معاملات میں فیصلہ سازی ان کے اپنے اختیار میں نہ ہو تو وہ عالمی فورمز پر اپنے لوگوں کے حقوق کا مقدمہ کس قوت سے لڑ سکتی ہیں؟
یہ صرف یاسین ملک کی بے بسی نہیں؛ یہ ایک پوری قوم کی سیاسی بے بسی کا سوال بھی ہے۔ اسی لیے پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے عوام کا یہ بنیادی مطالبہ بھی اہم ہے کہ انہیں ایسی حقیقی اور بااختیار سیاسی نمائندگی حاصل ہو جو ان کے عوام کے مسائل کو صرف مقامی سطح پر نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مؤثر انداز میں اٹھا سکے۔ حقیقی نمائندگی صرف اسمبلی کی نشستوں کا نام نہیں؛ حقیقی نمائندگی کا مطلب حقیقی اختیار بھی ہے۔
اب ایسے حالات میں عالمی برادری کے سامنے ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یاسین ملک کے معاملے کو محض بھارت کا داخلی عدالتی معاملہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ریاست جموں کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع ریاست ہے جس کا کوئی بھی حصہ بھارت یا پاکستان کا آئینی حصہ نہیں بلکہ دونوں کے زیرِ انتظام ہے۔ یوں دونوں ممالک پر ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں، ساتھ ہی بین الاقوامی برادری پر بھی اس خطے کے عوام کے حقوق کے تحفظ کی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ انسانی حقوق کا تعلق سرحدوں سے بالاتر ہے۔ اس لیے اقوام متحدہ، یورپی یونین، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور دنیا کی بڑی جمہوریتوں کو یہ دیکھنا ہوگا کہ یاسین ملک کے مقدمات میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں یا نہیں، انہیں مؤثر قانونی دفاع حاصل ہے یا نہیں، ان کی حراست کے حالات کیا ہیں اور ایک ایسے قیدی کی جانب سے موت کی درخواست کے پس منظر میں انسانی حقوق کے کون سے سوالات موجود ہیں۔
دنیا کو بھارت سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ یاسین ملک کے مقدمے کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے، انہیں مؤثر قانونی نمائندگی کا حق دیا جائے، ان کی حراست کے حالات کا آزادانہ جائزہ لیا جائے اور کسی بھی صورت میں ان کی زندگی کو ناقابلِ تلافی خطرے میں نہ ڈالا جائے۔ اگر بھارت کے پاس ان کے خلاف ٹھوس شواہد ہیں تو انہیں شفاف عدالتی عمل میں پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق پرکھا جائے۔ لیکن اگر الزامات ثابت نہیں ہوتے تو انہیں رہا کیا جائے۔ کسی انسان کو محض سیاسی تنازع کی قیمت کے طور پر تختۂ دار تک پہنچانا کسی مسئلے کا حل نہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ انسانی حقوق کے معاملے میں دوہرے معیار کو ختم کیا جائے۔ کشمیری پنڈتوں کے خلاف ہونے والے جرائم قابلِ مذمت ہیں اور ان کے متاثرین کو انصاف ملنا چاہیے۔ اسی طرح کشمیری مسلمانوں کے خلاف ہونے والی مبینہ زیادتیوں، قتل، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور سیاسی آزادیوں پر پابندیوں کے معاملات کی بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انسانی جان کی قیمت مذہب، قومیت یا سیاسی وابستگی سے متعین نہیں کی جا سکتی۔ انصاف مذہب نہیں دیکھتا، انصاف قومیت نہیں دیکھتا، انصاف سیاسی وابستگی نہیں دیکھتا۔ اگر ایک کشمیری پنڈت کے قتل پر دنیا کو دکھ ہوتا ہے تو ایک کشمیری مسلمان کے قتل پر بھی ہونا چاہیے۔ اگر ایک خاندان کے آنسو قیمتی ہیں تو دوسرے خاندان کے آنسو بھی اتنے ہی قیمتی ہیں۔ یہی انسانی حقوق کی اصل روح ہے۔
یہاں یہ سوال بھی ضروری ہے کہ اگر بھارت واقعی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے تو اسے اپنے سب سے مشکل سیاسی مخالف کے ساتھ بھی وہی اصول اپنانے چاہئیں جن کا وہ دنیا کے سامنے دعویٰ کرتا ہے۔ کیا یاسین ملک کو منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہے؟ کیا انہیں مؤثر قانونی دفاع میسر ہے؟ کیا ان کے خلاف مقدمات کے شواہد مکمل طور پر شفاف طریقے سے پرکھے جا رہے ہیں؟ اور سب سے اہم یہ کہ جب وہ خود موت مانگ رہے ہیں تو کیا ریاست اور عدالت کی ذمہ داری صرف ان کی درخواست پر فیصلہ کرنا ہے، یا یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ایک انسان اس مقام تک کیسے پہنچا؟
ریاستیں اپنے مخالفین کو قید کر سکتی ہیں، انہیں عدالتوں میں کھڑا کر سکتی ہیں، انہیں برسوں تک جیل میں رکھ سکتی ہیں، لیکن کسی قوم کے سیاسی سوال کو ہمیشہ کے لیے جیل کی دیواروں میں بند نہیں کیا جا سکتا۔عالمی طاقتوں کے ساتھ بھارت اور پاکستان کو یہ بھی سمجنا ہو گا کہ کشمیر کا مسئلہ یاسین ملک کی قید سے ختم نہیں ہوگا، ان کی عمر قید سے ختم نہیں ہوگا اور اگر خدانخواستہ انہیں پھانسی دی جاتی ہے تو اس سے بھی کشمیر کا سیاسی سوال ختم نہیں ہوگا۔
بلکہ اس کے برعکس ایک نیا سوال تاریخ کے سامنے کھڑا ہوگا: کیا ایک سیاسی مسئلے کو سیاسی ذرائع سے حل کرنے کے بجائے ریاستی طاقت، جیل، مقدمات اور سزاؤں کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کی گئی؟ یہ سوال باقی تمام سوالوں سے کہیں بڑا ہے۔ یہ جمہوریت کا سوال ہے، یہ انسانی حقوق کا سوال ہے، یہ انصاف کا سوال ہے اور یہ دنیا کے ضمیر کا سوال ہے۔
یاسین ملک کے لیے مطالبہ یہ نہیں کہ انہیں قانون سے بالاتر قرار دیا جائے۔ مطالبہ صرف یہ ہے کہ قانون واقعی قانون رہے، انتقام کا ذریعہ نہ بنے۔ مطالبہ یہ نہیں کہ الزامات کو نظر انداز کیا جائے؛ مطالبہ یہ ہے کہ الزامات کو شفاف، غیر جانب دار اور منصفانہ عدالتی عمل میں پرکھا جائے۔ مطالبہ یہ نہیں کہ کسی فرد کو قانون سے استثنیٰ دیا جائے؛ مطالبہ یہ ہے کہ ریاست بھی انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی سے بالاتر نہ ہو۔
اور سب سے بڑھ کر، جب ایک قیدی اپنے لیے موت مانگنے لگے تو دنیا کو اس درخواست کو محض ایک قانونی کاغذ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے پیچھے موجود انسان کو دیکھنا چاہیے۔ اس کی عمر رسیدہ ماں کو دیکھنا چاہیے۔ اس کی تین بہنوں کو دیکھنا چاہیے۔ اس کی اہلیہ مشعال حسین ملک کو دیکھنا چاہیے، جو برسوں سے شوہر کی جدائی اور اپنی بیٹی کے مستقبل کی فکر کا بوجھ اٹھا رہی ہیں۔ اس کی تیرہ سالہ بیٹی کو دیکھنا چاہیے۔ اس خاندان کے ان برسوں کو دیکھنا چاہیے جو انتظار، جدائی اور خوف میں گزر گئے۔
ذرا اس ماں کے بارے میں سوچیے جو اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے دعا کرتی ہے۔ ان بہنوں کے بارے میں سوچیے جو اپنے اکلوتے بھائی کو کھونے کے خوف میں زندگی گزار رہی ہیں۔ اس بیوی کے بارے میں سوچیے جو اپنے شوہر کی رہائی کی منتظر ہے۔ اس تیرہ سالہ بچی کے بارے میں سوچیے جس کا باپ برسوں سے جیل میں ہے اور جس کے بچپن کے قیمتی برس اپنے والد کی قربت کے بغیر گزر رہے ہیں۔ پھر اپنے آپ سے سوال کیجیے کہ کیا انصاف کا نظام اتنا بے حس ہو سکتا ہے کہ ان انسانی آنسوؤں کی کوئی قیمت نہ ہو؟
دنیا نے انسانی حقوق کے عالمی اصولوں میں زندگی، آزادی، انسانی وقار اور منصفانہ ٹرائل کے حقوق کو تسلیم کیا ہے۔ ان اصولوں کا امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب ریاست کے سامنے سب کچھ آسان ہو۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ریاست کے سامنے کوئی ایسا شخص کھڑا ہو جو اس کے سیاسی مؤقف سے اختلاف کرتا ہو۔ آج یاسین ملک کا معاملہ اسی امتحان کی گھڑی ہے۔
اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یورپی یونین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دنیا کی بڑی جمہوریتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اور بھارت کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا نظامِ انصاف صرف ریاست کے طاقتور مؤقف کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ ایک ایسے شخص کے حقوق کی بھی حفاظت کرتا ہے جو ریاست کا سیاسی مخالف ہے۔
دنیا کو بھارت سے کہنا چاہیے کہ اگر یاسین ملک کے خلاف جرم ہے تو شفاف ٹرائل کرو، اگر ثبوت ہیں تو عدالت کے سامنے پیش کرو، اگر جرم ثابت نہیں ہوتا تو رہا کرو۔ لیکن ایک ایسے انسان کو سیاسی تنازع کی قیمت پر تختۂ دار تک مت لے جاؤ جو پہلے ہی برسوں سے قید ہے اور جس کی موت کی درخواست خود ایک گہرے انسانی المیے کی گواہی دے رہی ہے۔
اور پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی سیاسی قیادت سے بھی یہ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ وہ اپنے عوام کی مکمل اور بااختیار سیاسی نمائندگی کے لیے کب کھڑی ہوگی؟ کب وہ اپنے عوام کے سیاسی اور انسانی حقوق کی عالمی سطح پر مؤثر ترجمانی کے لیے حقیقی اختیار کا مطالبہ کرے گی؟ کیونکہ اگر ایک حکومت خود عالمی سطح پر اپنے عوام کی آواز بلند کرنے کے اختیار سے محروم ہو تو یاسین ملک جیسے کشمیریوں کے لیے دنیا کے سامنے کون آواز اٹھائے گا؟
یہ وقت محض بیانات کا نہیں بلکہ عملی انسانی حقوق، سفارتی اور سیاسی جدوجہد کا ہے۔ یاسین ملک کو موت نہیں، انصاف کے ساتھ جینے کا حق دیا جانا چاہیے۔ ان کی عمر رسیدہ والدہ کو اپنے اکلوتے بیٹے سے ملنے کا حق ملنا چاہیے۔ ان کی تین بہنوں کو اپنے بھائی کی واپسی کی امید ملنی چاہیے۔ ان کی اہلیہ مشعال حسین ملک کو اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق ملنا چاہیے اور تیرہ سالہ رضیہ سلطانہ کو اپنے باپ کا سایہ واپس ملنا چاہیے۔
یہ صرف یاسین ملک کی زندگی کا سوال نہیں۔ یہ ایک خاندان کی زندگی کا سوال ہے۔ یہ ایک قوم کے سیاسی حق کا سوال ہے۔ یہ انسانی حقوق کی عالمگیریت کا سوال ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ دنیا کے ضمیر کا سوال ہے۔
ریاستیں طاقت کے بل پر انسان کو قید کر سکتی ہیں، مگر کسی قوم کے سیاسی شعور کو قید نہیں کر سکتیں۔ جیل کی دیواریں ایک شخص کو دنیا سے دور کر سکتی ہیں، مگر اس کے سیاسی سوال کو ختم نہیں کر سکتیں۔ اور تختۂ دار کسی قوم کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔
اب دنیا کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ تہاڑ جیل کی کال کوٹھڑی سے اٹھنے والی اس آواز کو سنے گی یا خاموش تماشائی بنی رہے گی۔
کیونکہ تاریخ کا سوال بہت سادہ ہوگا کہ جب ایک عمر رسیدہ ماں کا اکلوتا بیٹا تہاڑ کی کال کوٹھڑی سے موت مانگ رہا تھا، جب تین بہنیں اپنے بھائی کے مستقبل سے خوفزدہ تھیں، جب ایک بیوی اپنے شوہر کی زندگی اور رہائی کی منتظر تھی، جب ایک تیرہ سالہ بچی اپنے باپ سے محروم تھی، اور جب ایک کشمیری سیاسی قیدی انصاف کی دہائی دے رہا تھا—تو دنیا کہاں تھی؟
٭٭٭
Share this content:


