برطانیہ کا مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں کا اعلان

برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

منگل کے روز برطانوی پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے ملی بینڈ کا کہنا تھا انھیں نہیں لگتا کہ ’برطانوی عوام یہ چاہتے ہیں کہ ہماری دکانوں میں بستیوں سے آنے والی مصنوعات اجازت دے کر قبضے کی حمایت کریں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ’جامع پابندیوں کا نظام‘ قائم کیا جائے گا، جس میں ’مناسب مذہبی استثنا‘ بھی شامل ہوں گے۔

غیر قانونی بستیوں کو سہولت فراہم کرنے والوں کو مخاطب ہوتے ہوئے ملی بینڈ کا کہنا تھا: ’آپ کو برطانیہ کی بھرپور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

انھوں نے ارکانِ پارلیمان کو بتایا کہ برطانیہ اس بات سے متفق ہے کہ مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں شناخت کی بنیاد پر نسل کشی (ایتھنک کلینزنگ) ہو رہی ہے۔

ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کی نظر میں مغربی کنارے پر قبضہ ’غیر قانونی‘ ہے۔

انھوں نے برطانیہ میں مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے اشتہارات پر پابندی کا بھی اعلان کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ’پابندیوں کا نظام غیر قانونی بستیوں اور ان کے پھیلاؤ کو ہدف بنائے گا، اسرائیل کو نہیں۔‘

ملی بینڈ نے کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ ایسے ’انتہا پسند آبادکاروں‘ پر بھی پابندیاں عائد کر رہا ہے جنھوں نے فلسطینی برادریوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں کی حمایت کی یا انھیں ہوا دی۔

Share this content: