پاکستان کے صوبہ سندھ کے ہائی کورٹ کے سرکٹ کورٹ حیدرآباد نے ڈسٹرکٹ جیل دادو میں قید پشتون رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کے خلاف مزید ایف آئی آرز کے اندراج کے معاملے پر پولیس سے تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
عدالت نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ علی وزیر کے خلاف زیرِ التوا مقدمات اور ایف آئی آرز کی مکمل تعداد سے آگاہ کیا جائے، جبکہ دورانِ حراست اگر ان کے خلاف مزید مقدمات درج کیے گئے ہیں تو ان کا ریکارڈ بھی آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے۔
سندھ ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 10 ستمبر 2026 تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے وابستہ سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو مارچ 2026 میں سکھر جیل سے ضمانت پر رہا کیا گیا تھا، تاہم رہائی کے چند گھنٹے بعد ہی پولیس نے انھیں بغاوت کے ایک اور مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں مقامی عدالت نے انھیں ڈسٹرکٹ جیل دادو منتقل کرنے کا حکم دیا، جہاں وہ اس وقت قید ہیں۔
واضح رہے کہ علی وزیر کو دسمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد سے ان پر چار مقدمات دائر ہوچکے ہیں۔
Share this content:


