یمن کے حوثیوں نے مخا بندرگاہ پر قبضہ کر لیا

خبر رساں ادارے روئٹرز نے یمنی حکومت کے تین عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں نے مخا بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

حوثی بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہوں پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس اقدام سے آبنائے باب المندب پر ان کا کنٹرول مزید مضبوط ہو سکتا ہے، جو بحیرۂ احمر میں عالمی جہازرانی کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

اس سے قبل یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز اور حوثیوں کے درمیان شدید جھڑپوں نے جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھا دیے تھے۔

ادھر سعودی عرب نے اپنی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے جواب میں یمن کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے بھی کیے ہیں۔

کشیدگی میں اضافے کے بعد سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع خمیس مشیط شہر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے یمنی حکومت کے تین عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حوثیوں نے جمعرات کو ’مخا بندرگاہ‘ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

مخا بندرگاہ یمن کے صوبے تعز کے مغرب میں واقع ہے۔ یہ آبنائے باب المندب سے تقریباً 65 سے 75 کلومیٹر شمال اور ’تعز‘ شہر سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق مخا بندرگاہ اس بین الاقوامی بحری گزرگاہ سے صرف تقریباً چھ کلومیٹر دور ہے، جو بحرِ ہند اور بحیرۂ عرب کو بحیرۂ احمر اور نہرِ سویز سے ملاتی ہے۔

حوثیوں نے گذشتہ ماہ (دس اگست) کو بھی مخا بندرگاہ پر بڑا حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں آٹھ یمنی فوجی ہلاک اور 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

اُس حملے کے بعد حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا تھا کہ ’حملے میں مخا میں موجود سعودی افواج کے اسلحے کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔‘ تاہم یمنی فوج کا کہنا تھا کہ ’حملے رہائشی علاقوں پر کیے گئے، جبکہ یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق بندرگاہ کے اندر شہری اور اقتصادی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔‘

یاد رہے کہ حوثی بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہوں پر قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اور مخا بندرگاہ کا کنٹرول حاصل کرنے کا اقدام آبنائے باب المندب میں حوثیوں کا کنٹرول مزید مضبوط کر سکتا ہے۔

Share this content: