برطانوی پارلیمان کے رکن بیرسٹر عمران حسین نے آزاد کشمیر (پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر) میں گزشتہ تین ماہ سے جاری لاک ڈاؤن، بڑھتے ہوئے تشدد اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جامع بحث کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے۔
برطانوی کشمیری رکنِ پارلیمنٹ بیرسٹر عمران حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ آزاد کشمیر میں صورتحال کو تین ماہ گزر جانے کے باوجود ہلاکتوں، شہریوں کے زخمی ہونے اور بلاجواز گرفتاریوں کی مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ بحیثیت رکن برطانوی پارلیمان، انہوں نے ایوان میں اس موضوع پر مکمل اور تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا ہے تاکہ انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی قانون کی روشنی میں عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھایا جا سکے۔
بیرسٹر عمران حسین نے خطے میں فوری طور پر درج ذیل اقدامات کا مطالبہ کیاکہ پرتشدد کارروائیاں اور شہریوں پر تشدد فوراً بند کیا جائے۔ بلاک کیے گئے انٹرنیٹ اور تمام مواصلاتی رابطے فوری طور پر بحال کیے جائیں۔ تمام فریقین کے درمیان بلا تاخیر پُرامن مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔اور مسئلے کے کسی بھی دیرپا حل کے مرکز میں کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق اور ان کی خواہشات کو اولین ترجیح دی جائے۔
Share this content:


