پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے ضلع سدھنوتی کے علاقے شہید آباد بلوچ میں 34 روز تک مبینہ محاصرے کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بارے میں مقامی رہائشی انکل رشید نے اپنی روداد بیان کرتے ہوئے پاکستانی فورسز پر لوٹ مار، گھروں کو نقصان پہنچانے اور علاقے میں تباہی پھیلانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
انکل رشید کے مطابق علاقے کے مکینوں نے کئی ہفتوں تک خوف، غیر یقینی اور مشکلات میں وقت گزارا۔ ان کا کہنا ہے کہ مبینہ محاصرے کے دوران لوگوں کی نقل و حرکت محدود رہی اور شہریوں کو روزمرہ ضروریات کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انکل رشید نے دعویٰ کیا کہ اس دوران متعدد گھروں اور املاک کو نقصان پہنچا، جبکہ بعض مقامات پر مبینہ طور پر سامان بھی لوٹا گیا۔ ان کے بقول، علاقے کے لوگوں کے لیے یہ 34 دن شدید ذہنی اذیت اور خوف کا باعث بنے۔
انہوں نے کہا کہ محاصرے کے دوران خاندان اپنے گھروں تک محدود رہے اور کئی افراد کو اپنے پیاروں اور علاقے کے دیگر لوگوں کی سلامتی کے حوالے سے مسلسل تشویش لاحق رہی۔
انکل رشید کے مطابق، شہید آباد بلوچ میں پیش آنے والے واقعات نے مقامی آبادی پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں اور متاثرہ خاندان اب بھی اس عرصے کے نقصانات اور خوف سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Share this content:


