یمن کے حساس صوبے تعز میں خونریز فضائی حملوں اور شدید جھڑپوں کے بعد یمنی حکومتی فورسز اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان کشیدگی اور جنگ میں بلا کی شدت آ گئی ہے۔
حوثی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تعز کے علاقے میں ہونے والے فضائی حملوں میں گروپ کے تقریباً 30 جنگجو اور 8 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر تعز کے مضافاتی علاقے "مویہ چوراہے” کے ایک بازار اور دکانوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں 50 سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اس حملے کا سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت اور سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں کے اس موقف کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی فورسز نے مویہ چوراہے پر حوثیوں کے ایک فوجی کیمپ اور ملٹری گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
یمنی مسلح افواج کے ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے بتایا کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران فورسز نے 756 مؤثر کارروائیاں کیں، جن میں 2,316 حوثی جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں چار ایرانی شہری بھی شامل ہیں۔
تعز ایک جغرافیائی طور پر انتہائی اہم اور حساس صوبہ ہے جو شمال میں حکومتی کنٹرول والے علاقوں اور جنوب میں حوثیوں کے زیرِ اثر علاقوں کے درمیان واقع ہے۔ حالیہ عرصے میں، بالخصوص حوثیوں کی جانب سے اہم بندرگاہی شہر المخا پر قبضے کے بعد سے دونوں فریقین کے درمیان جھڑپوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق یمنی حکومتی فورسز حوثی باغیوں کی نئی پیش قدمی کو روکنے کے لیے دفاعی و جوابی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
Share this content:


