تحریر: خواجہ کبیر احمد
جموں کشمیر کی گزشتہ تقریباً 78 برس کی تحریکی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ اس تاریخ کو ہمیشہ اپنے اپنے سیاسی، مذہبی،تنظیمی اور بعض طاقتوں کے قومی مفادات کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کی گئی۔ ہر فریق نے اپنی پسند کے واقعات کو تحریکی تاریخ کا مرکز بنایا، اپنے مؤقف کے حق میں دلائل تراشے، مخالف فریق کی زیادتیوں کو نمایاں کیا اور اپنی صفوں کی غلطیوں، خاموشیوں اور مصلحتوں پر پردہ ڈال دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک پوری نسل ایسی تحریکی تاریخ پڑھتی اور سنتی رہی جس میں سوال کرنے کی گنجائش کم اور پہلے سے طے شدہ جوابات زیادہ تھے۔
لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ نئی نسل کے ہاتھ میں کتاب کے ساتھ موبائل فون بھی ہے، ایک طرف سرکاری،سیاسی ،مذہبی اور تنظیمی بیانیے ہیں تو دوسری طرف دنیا بھر کے اخبارات، انسانی حقوق کی رپورٹس، تاریخی دستاویزات اور مختلف سیاسی نقطۂ نظر اس کی انگلیوں کی ایک جنبش پر موجود ہیں۔ وہ سوال کر رہی ہے کہ اگر جموں کشمیر کی تحریکی تاریخ اتنی ہی سادہ تھی جتنی بتائی گئی تو پھر اتنے مختلف واقعات، اتنے مختلف بیانیے اور اتنے مختلف سوالات کیوں موجود ہیں؟ اگر ہر غلطی صرف دوسرے فریق کی تھی تو پھر جموں کشمیر کی اپنی سیاسی تاریخ میں اتنی تلخیاں، اتنی ناکامیاں اور اتنے المیے کیوں پیدا ہوئے؟
یہ سوال صرف آج کا نہیں، گزشتہ کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ 1987 کے انتخابات کے بعد بھارتی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں سیاسی بے چینی نے ایک نیا رخ اختیار کیا اور 1988 کے بعد مسلح مزاحمت نے شدت اختیار کی۔ متعدد مطالعات میں انتخابی عمل کی خرابیوں اور سیاسی بے اعتمادی کو اس بحران کے اہم عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کے بعد پاکستان سے مسلح گروہوں کی معاونت، تربیت اور سرحد پار آمد کے بارے میں بھی مختلف بین الاقوامی رپورٹس سامنے آئیں۔ امریکی حکومت کی تاریخی دستاویزات میں بھی پاکستان میں موجود بعض کشمیری مسلح گروہوں، ان کے تربیتی ڈھانچوں اور جموں کشمیر میں ان کی سرگرمیوں کا ذکر ملتا ہے۔
لیکن اس تحریکی تاریخ کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے، اور شاید اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ۔ بھارتی ریاست نے مسلح مزاحمت کے جواب میں جس وسیع پیمانے پر فوجی اور انتظامی طاقت استعمال کی، اس کے نتیجے میں عام کشمیری شہری بھی شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی زد میں آئے۔ ہیومن رائٹس واچ نے 1990 کی دہائی کے آغاز کے واقعات میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، گھروں کی تلاشی، تشدد، شہریوں پر فائرنگ، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کی دستاویز بندی کی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اسی دور میں گرفتاریوں، تشدد، حراستی ہلاکتوں اور گمشدگیوں کے متعدد واقعات رپورٹ کیے۔
جنوری 1990 میں جگموہن کی بطور گورنر واپسی کے بعد صورتحال مزید سنگین ہوئی۔ 21 جنوری 1990 کو سری نگر کے گاؤ کدل میں مظاہرین پر فائرنگ کا واقعہ جموں کشمیر کی جدید تحریکی تاریخ کے ان واقعات میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق کم از کم 35 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بعض دیگر اندازوں میں تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی گئی۔
اس کے بعد بھی واقعات کا سلسلہ رکا نہیں۔ سوپور، بیج بہاڑہ اور دیگر مقامات پر شہری ہلاکتوں کے واقعات سامنے آئے۔ 6 جنوری 1993 کے سوپور واقعے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کم از کم 53 افراد کی ہلاکت رپورٹ کی اور کہا کہ سکیورٹی فورسز کے ارکان نے ایک حملے کے بعد شہری آبادی کے خلاف کارروائی کی، جس میں گھروں اور دکانوں کو جلانے کے الزامات بھی شامل تھے۔
اسی تحریکی تاریخ کا ایک انتہائی حساس اور المناک باب خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے الزامات ہیں۔ 23 فروری 1991 کو کنن پوشپورہ میں بھارتی فوج کے سرچ آپریشن کے دوران درجنوں خواتین کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے الزامات سامنے آئے۔ مختلف رپورٹس میں متاثرہ خواتین کی تعداد مختلف بتائی گئی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان الزامات کی دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور 2013 میں بھی اس معاملے میں آزادانہ تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔
اسی طرح شوپیاں میں خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی اور تشدد کے واقعات کے بارے میں بھی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 1993 میں رپورٹ کیا کہ بھارتی حکام نے الزامات کو مسترد کیا، جبکہ تنظیم نے آزاد اور غیر جانب دار تحقیقات نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی۔
(ضابطہ اخلاق یہی ہے کہ الزامات کو الزامات ہی کہا جائے، جب تک کسی آزاد اور قابلِ اعتماد عدالتی یا تحقیقاتی عمل سے ان کی حتمی قانونی حیثیت متعین نہ ہو۔ لیکن یہ بھی ضابطہ اخلاق ہی ہے کہ ایسے الزامات کو محض اس بنیاد پر نظرانداز نہ کیا جائے کہ ان سے کسی ریاست، فوج یا سیاسی بیانیے پر سوال اٹھتا ہے۔ عورت کے جسم کو جنگ، خوف، تذلیل یا انتقام کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کا الزام کسی بھی معاشرے کے لیے معمولی واقعہ نہیں ہو سکتا۔)
اسی اصول کا اطلاق مسلح گروہوں پر بھی ہونا چاہیے۔ جموں کشمیر میں مسلح تنظیموں کے ہاتھوں شہریوں کے قتل، اغوا، دھمکیوں، سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور اقلیتی آبادی کے خلاف تشدد کے واقعات بھی انسانی حقوق کی دستاویزات میں درج ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے واضح طور پر مسلح گروہوں کی جانب سے شہریوں اور مبینہ مخبروں کے قتل، اغوا اور دیگر خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کی ہے۔
یہاں اصل مسئلہ یہی ہے کہ کیا ایک فریق کا جرم دوسرے فریق کے جرم کو جائز بنا دیتا ہے؟ کیا بھارتی ریاستی طاقت کے غلط استعمال کا جواب مسلح گروہوں کی طرف سے شہریوں کے قتل کو درست قرار دے سکتا ہے؟ اور کیا مسلح گروہوں کی زیادتیوں کو بنیاد بنا کر ریاستی طاقت کے ہر استعمال کو جائز سمجھا جا سکتا ہے؟ ایک سنجیدہ سیاسی اور انسانی حقوق کی بحث کا جواب دونوں سوالوں کا ایک ہی ہونا چاہیے کہ ، نہیں۔
بدقسمتی سے جموں کشمیر کی تحریکی تاریخ میں یہی دوہرا معیار بارہا نظر آتا ہے۔ ایک فریق اپنے مقتول کو شہید اور دوسرے کے مقتول کو مشکوک قرار دیتا ہے؛ ایک طرف کی گرفتاری ظلم کہلاتی ہے اور دوسری طرف کی گرفتاری کو ضرورت؛ ایک طرف کی بندوق مزاحمت بنتی ہے اور دوسری طرف کی بندوق دفاع۔ اس طرح تحریکی تاریخ حقیقت کا آئینہ نہیں رہتی بلکہ سیاسی ضرورت کا ہتھیار بن جاتی ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں میں مذہبی جذبات بھی اس سیاست کا اہم حصہ بنے۔ جموں کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو بعض اوقات سیاسی مطالبات کے ساتھ اس طرح جوڑا گیا کہ اختلافِ رائے کو بھی دینی وفاداری کا مسئلہ بنا دیا گیا۔ مذہب یقین اور روحانی زندگی کا معاملہ ہے، لیکن جب اسے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو سوال اٹھانا ضروری ہو جاتا ہے کہ اس عمل کا فائدہ کس کو پہنچا اور قیمت کس نے ادا کی؟
جموں کشمیر کے عام انسان نے اس سیاست کی قیمت مختلف شکلوں میں ادا کی۔ کسی نے بیٹا کھویا، کسی نے بھائی، کسی نے شوہر، کسی کا گھر اجڑا، کسی کا کاروبار ختم ہوا، کسی نے جیل دیکھی، کسی نے ہجرت کی اور کسی نے زندگی بھر خوف کے سائے میں زندگی گزاری۔ اس لیے جموں کشمیر کی تحریکی تاریخ صرف نقشوں، قراردادوں، تقریروں اور نعروں کی تحریکی تاریخ نہیں؛ یہ عام انسان کے دکھ، خوف اور امید کی بھی تحریکی تاریخ ہے۔
یہاں ایک اور حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ریاست جموں کشمیر کی مکمل آزادی اور خودمختاری کے خواب کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں میں مختلف سیاسی، قومی اور مزاحمتی پلیٹ فارمز سے وابستہ بے شمار لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ ان کے سیاسی طریقۂ کار، تنظیمی وابستگی یا نظریاتی ترجیحات پر اختلاف اپنی جگہ، لیکن جس شخص نے اپنے وطن کے سیاسی مستقبل کے ایک تصور پر یقین رکھتے ہوئے اپنی جان دے دی، اس کی قربانی کو تحریکی تاریخ کے ایک اہم انسانی باب کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
مقبول بٹ شہید کے قریبی ساتھی اورنگزیب شہید سے لے کر مقبول بٹ شہید اور پھر مختلف ادوار میں جان قربان کرنے والے ان تمام لوگوں تک، جنہوں نے ریاست جموں کشمیر کی مکمل آزادی اور خودمختاری کے تصور کے لیے اپنی زندگی کا آخری سرمایہ بھی قربان کر دیا، یہ قربانیاں اس جدوجہد کی تحریکی تاریخ کا حصہ ہیں۔ یہ لوگ اپنے لیے کسی مادی فائدے، عہدے یا ذاتی مفاد کی خاطر میدان میں نہیں اترے تھے بلکہ اپنے سیاسی یقین اور اپنے وطن کے مستقبل کے ایک تصور کے ساتھ کھڑے ہوئے اور اپنی جان دے دی۔
کسی بھی انسانی جدوجہد میں جان کا نذرانہ پیش کرنا قربانی کی آخری حد، یعنی حتمی قربانی ہے۔ ان افراد کے سیاسی نظریات اور ان کے اختیار کردہ طریقۂ کار پر تحریکی تاریخ اور آنے والی نسلیں اپنا فیصلہ ضرور کریں گی، لیکن ان کی قربانی، ان کے خلوص کے اور ان کی زندگیوں کے ضائع ہو جانے کی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے نام اور ان کی قربانیاں ریاست جموں کشمیر کی سیاسی تحریکی تاریخ کا مستقل حصہ رہیں گی اور ان کے بارے میں حتمی تحریکی تاریخی مقام آنے والی نسلوں کی تحقیق، شعور اور اجتماعی یادداشت طے کرے گی۔
جن سیاسی رہنماؤں اور تنظیموں نے ریاست جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک میں اپنے اپنے ادوار میں کردار ادا کیا، ان کی سیاسی جدوجہد، قربانیوں اور خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ضروری ہے۔ لیکن خراجِ عقیدت کے ساتھ موجودہ قیادت کو یہ سوال بھی خود سے کرنا ہوگا کہ کیا گزشتہ کئی دہائیوں کے روایتی سیاسی طریقے آج کی دنیا میں بھی اسی طرح مؤثر رہ سکتے ہیں؟
دنیا بھر میں سیاسی تحریکیں نئے انداز، جدید حکمتِ عملی، تحقیق، اعداد و شمار، ابلاغی ذرائع، سفارتی روابط اور سائنسی بنیادوں پر اپنی سمت متعین کر رہی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ قیادت اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہوئے نئی نسل کے لیے راستہ کھولے اور اسے اپنے عہد کے تقاضوں، جدید ذرائع اور دنیا میں سیاسی جدوجہد کے بدلتے ہوئے طریقوں کے مطابق اپنی صلاحیت، علم اور تخلیقی فکر کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع دے۔
ہر نسل کا اپنا زمانہ ہوتا ہے، اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ نئی نسل کو ماضی کی عزت کے ساتھ مستقبل کی سیاست خود تشکیل دینے کی آزادی بھی دی جائے۔ کیونکہ ماضی کی جدوجہد جس کے اثرات آج بھی نمایاں ہیں وہ عملی طور پر صرف بھارت سے آزادی کی جدوجہد رہی جبکہ آج کی نئی نسل اپنی پوری ریاست جموں کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرتی ہے۔ یوں جو اصول بھارتی زیرِ انتظام جموں کشمیر پر لاگو ہوتا ہے وہی پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر پر بھی لاگو ہو ۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کو اس سے مستثنیٰ کیوں سمجھا جائے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں نئی نسل اور آج کے واقعات توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ برسوں کے دوران عوامی مطالبات نے ایک نیا سیاسی رنگ اختیار کیا ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے بجلی، آٹے، حکومتی مراعات، نمائندگی، وسائل، انتظامی اختیار، احتساب اور دیگر عوامی مسائل پر احتجاج سامنے آیا۔ 38 نکاتی مطالباتی چارٹر نے ایک بڑے طبقے، خصوصاً نوجوانوں، کو یہ سوال اٹھانے کا موقع دیا کہ ریاستی وسائل اور سیاسی اختیار کا اصل مرکز کہاں ہے اور عام شہری کے حصے میں کیا آتا ہے۔
حالیہ احتجاجی ادوار میں شٹر ڈاؤن، پہیہ جام، لانگ مارچ، دھرنے اور طویل عوامی اجتماعات دیکھنے میں آئے۔ اس تحریک کے بارے میں مختلف سیاسی اور ریاستی مؤقف سامنے آئے؛ بعض حلقوں نے اسے عوامی حقوق کی جدوجہد قرار دیا، جبکہ ریاستی حکام اور بعض سیاسی حلقوں نے اس کے بعض طریقۂ کار اور بعض رہنماؤں کے کردار پر سنگین اعتراضات اٹھائے۔
مئی 2023 سے جاری عوامی حقوق کی تحریک کے دوران، خاص کر جون 2026 میں حکومت اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان اختلافات، ایک بڑے جانی نقصان (جس میں اب تک ایک سو بیس کے قریب قیمتی جانوں کا قربان ہونا) ، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کیا۔ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے ایک حالیہ فیکٹ فائنڈنگ مشن نے بھی ادارہ جاتی عدم اعتماد، رابطوں اور اظہارِ رائے پر پابندیوں، ریاستی ردعمل اور احتجاجی طریقوں کے بارے میں متضاد اطلاعات کا ذکر کرتے ہوئے فوری اور جامع سیاسی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں جاری عوامی تحریک کے دوران پرامن اجتماع کے حق پر پابندیوں، کریک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR) نے بھی پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں انسانی حقوق، اظہارِ رائے اور اجتماع کی آزادی سے متعلق خدشات اپنی رپورٹس میں پہلے ہی ریکارڈ کیے ہیں۔
اس صورتِ حال کو صرف ایک سیاسی جماعت یا ایک تنظیم کے چشمے سے دیکھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ نہ ہر احتجاج خودبخود مقدس ہوتا ہے اور نہ ہر احتجاج کو ریاست دشمنی قرار دینا مسئلے کا حل ہے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ مطالبات کیا ہیں، طریقۂ احتجاج کیا ہے، شہریوں کے حقوق کا احترام کس حد تک کیا جا رہا ہے، ریاستی ادارے قانون اور تناسب کے اصول پر کہاں تک قائم ہیں اور سیاسی قیادت مذاکرات کے راستے کو کس حد تک اختیار کرتی ہے۔
یہی سوال گلگت بلتستان میں بھی اٹھتے رہے ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان نے گزشتہ برسوں میں گندم کی قیمت، بجلی، ٹیکس، زمین کے حقوق، مقامی وسائل، نمائندگی اور دیگر عوامی مسائل پر احتجاج منظم کیے۔ 2024 میں طویل احتجاج اور دھرنوں کے بعد گندم کی سبسڈی، ٹیکسوں اور دیگر مطالبات پر حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
2026 میں بھی گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں نے سیاسی آزادی، پرامن اجتماع اور اختلافِ رائے کے حق پر سوال اٹھائے۔ مارچ 2026 میں ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاریوں پر پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے تشویش ظاہر کی، جبکہ وکلا کی جانب سے بھی احتجاج کیا گیا۔
یہ تمام واقعات ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کیا پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر کے دونوں خطوں میں عوامی سیاست اب محض انتخابی سیاست تک محدود رہ سکتی ہے؟ یا پھر عوامی مطالبات، وسائل کی تقسیم، سیاسی نمائندگی، انتظامی اختیار، انسانی حقوق اور جواب دہی کے سوالات کو مرکزی سیاسی بحث کا حصہ بنانا ہوگا؟ شاید اس سوال کا جواب کسی ایک جماعت، تنظیم یا ریاستی ادارے کے پاس نہیں۔
گزشتہ 78 برس کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ بندوق نے جموں کشمیر کے مسئلے کو حل نہیں کیا۔ مسلح کارروائیوں نے نہ جموں کشمیر کے عوام کو مکمل سیاسی اختیار دیا، نہ تقسیم ختم کی، نہ مستقل امن قائم کیا۔ دوسری طرف ریاستی طاقت کے استعمال نے بھی سیاسی اختلاف، انسانی حقوق اور عوامی اعتماد کے مسائل کو ختم نہیں کیا۔ بلکہ طاقت نے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کیا۔
اس لیے آج جب نئی نسل جموں کشمیر کی تحریکی تاریخ پڑھ رہی ہے تو اسے صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ کون اس کا دشمن تھا۔ اسے یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ جموں کشمیر کی اپنی صفوں میں کہاں غلطیاں ہوئیں، کہاں سیاسی فیصلے ناکام ہوئے، کہاں مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، کہاں بندوق کو سیاسی جدوجہد کا متبادل سمجھا گیا اور کہاں عام کشمیری کو بڑے جغرافیائی ، ریاستی اور طاقتی مفادات کے درمیان ایک مہرے کے طور پر استعمال ہونے دیا گیا۔
اسی طرح یہ سوال بھی ضروری ہے کہ جب بھارتی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آواز بلند کی جاتی ہے تو کیا یہی اصول پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی نافذ نہیں ہونا چاہیے؟ اگر اظہارِ رائے، اجتماع، احتجاج اور سیاسی اختلاف انسانی حقوق ہیں تو پھر ان کی قدر جغرافیے، ریاست یا سیاسی وابستگی کے ساتھ کیوں تبدیل ہو؟ اور اگر بھارتی ریاست سے شفاف تحقیقات، انصاف اور جواب دہی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو کیا پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں میں بھی یہی اصول قبول نہیں کیا جانا چاہیے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں نشاندہی کرنے والے کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ اس کا کام کسی ایک فریق کی طرف سے مقدمہ لڑنا نہیں بلکہ سوال کو زندہ رکھنا ہے۔ اسے مقتول کا مذہب، سیاسی وابستگی یا جغرافیہ دیکھ کر انصاف کے معیار تبدیل نہیں کرنے چاہییں۔ اسے ریاستی طاقت کے غلط استعمال پر بھی سوال اٹھانا چاہیے اور مسلح گروہوں کے ہاتھوں شہریوں کے قتل پر بھی۔ اسے حکومت سے بھی جواب مانگنا چاہیے اور ان سیاسی تنظیموں سے بھی جو عوام کے نام پر سیاست کرتی ہیں۔
اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں عوامی جذبات کو دوبارہ کسی ایسے راستے پر تو نہیں دھکیلا جا رہا جس کا انجام ایک اور نسل کی تباہی ہو۔
جموں کشمیر کو اب نعروں سے زیادہ ایک سنجیدہ سیاسی اور فکری مکالمے کی ضرورت ہے۔ ایسا مکالمہ جس میں آزادی کا مطلب صرف ایک جغرافیائی تبدیلی نہ ہو بلکہ انسان کے سوچنے، سوال کرنے، اختلاف کرنے اور اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں رائے دینے کے حق کو بھی سمجھا جائے۔ ایسا سیاسی تصور جس میں عوام صرف جلسوں میں تعداد پوری کرنے والے لوگ نہ ہوں بلکہ اپنے وسائل، اپنے اداروں اور اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں حقیقی اختیار رکھنے والے شہری ہوں۔
یہاں نوجوان نسل کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اسے کسی ریاست، جماعت، تنظیم یا بیرونی طاقت کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے کے بجائے تحریکی تاریخ کو خود پڑھنا ہوگا۔ اسے مختلف ذرائع دیکھنے ہوں گے، سرکاری بیانیے بھی پڑھنے ہوں گے، مخالف مؤقف بھی سمجھنا ہوگا، انسانی حقوق کی دستاویزات بھی دیکھنی ہوں گی اور پھر اپنی رائے قائم کرنی ہوگی۔ سوال کرنے والا نوجوان کسی تحریک کا دشمن نہیں ہوتا؛ وہ دراصل مستقبل کی سیاست کا بنیادی سرمایہ ہوتا ہے۔
لیکن اس پورے عمل میں سب سے مشکل کام شاید دوسروں کا احتساب نہیں بلکہ اپنا احتساب ہے۔ یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ گزشتہ 78 برس میں کہاں سچ چھپایا گیا؟ کہاں تحریکی تاریخ کو سیاسی ضرورت کے مطابق بیان کیا گیا؟ کہاں مذہب کو سیاست کا ہتھیار بنایا گیا؟ کہاں بندوق کو سیاسی جدوجہد کا متبادل سمجھا گیا؟ کہاں ریاستی طاقت کے غلط استعمال پر خاموشی اختیار کی گئی؟ کہاں مسلح گروہوں کی زیادتیوں کو نظرانداز کیا گیا؟ کہاں اختلاف کو غداری سمجھا گیا؟ اور کہاں عوام کے نام پر ایسے فیصلے کیے گئے جن کی قیمت خود عوام نے ادا کی؟
یہ سوال کسی ایک فریق کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے ہیں۔
بلکہ سوال یہ ہے ہی نہیں کہ گزشتہ 78 برس میں کس نے کیا کہا اور کس نے کیا کیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس طویل تحریکی تاریخ سے کیا سیکھا گیا۔ کیا آج بھی مختلف سیاسی، مذہبی اور جماعتی تعصبات کے حصار میں رہ کر تحریکی تاریخ کے صرف وہی صفحات پڑھے جاتے رہیں گے جو کسی مخصوص مؤقف کے حق میں ہوں؟ یا پھر اتنی اخلاقی جرأت پیدا کی جا سکے گی کہ غلطیوں، خاموشیوں اور سیاسی مصلحتوں کا بھی اعتراف کیا جائے؟
جن لوگوں نے اس طویل جدوجہد میں جانیں گنوائیں، جن کے گھر اجڑے، جن کے عزیز لاپتہ ہوئے، جنہوں نے جیلیں کاٹیں، تشدد برداشت کیا یا ہجرت پر مجبور ہوئے، ان سب کے سامنے تحریکی تاریخ کا حساب ابھی باقی ہے۔ اگر قومیں اپنے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتیں تو آنے والی نسلیں انہی غلطیوں کو نئے ناموں اور نئے نعروں کے ساتھ دہراتی ہیں۔
اگر شہداء کے ورثاء کے سامنے کھڑے ہو کر ہر سوال کا جواب دینا ممکن نہیں تو کم از کم اپنے ضمیر کے سامنے سچ بولنا تو ممکن ہے۔ کیونکہ تحریکی تاریخ کا فیصلہ صرف آج کے سیاسی نعروں سے نہیں ہوتا؛ آنے والی نسلیں بھی سوال کرتی ہیں اور انسان اپنے اعمال کا جواب اپنے ضمیر کے سامنے بھی دیتا ہے۔
اسی لیے اب اصل ضرورت کسی فرد، جماعت، تنظیم یا بیرونی طاقت کے حق میں ایک اور بیانیہ کھڑا کرنے کی نہیں، بلکہ ایسی سیاسی سوچ کی ہے جو سچ، انصاف، انسانی حقوق، جمہوری اختیار، پرامن سیاسی جدوجہد اور عوامی جواب دہی کو بنیادی اصول سمجھے۔ ایسی سیاست جو ماضی کی غلطیوں سے آنکھیں نہ چرائے، کسی فریق کے جرم کو دوسرے فریق کے جرم کا جواز نہ بنائے، اختلاف کو غداری نہ سمجھے اور نئی نسل کو بندوق، نفرت اور ادھوری تحریکی تاریخ کے بجائے علم، شعور، دلیل اور سیاسی راستہ فراہم کرے۔
اور یوں جموں کشمیر کی سیاست کو اپنے ماضی کے بوجھ سے نکل کر مستقبل کی طرف دیکھنا ہوگا۔ تحریکی تاریخ کو چھپانے سے تحریکی تاریخ تبدیل نہیں ہوتی، سچ کو دبانے سے سچ ختم نہیں ہوتا اور ماضی سے آنکھیں چرانے سے اس کے زخم مندمل نہیں ہوتے۔
تبدیلی کا آغاز ہمیشہ دوسروں کے گریبان میں جھانکنے سے نہیں ہوتا؛ کبھی کبھی اپنے گریبان میں جھانکنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اور شاید آج جموں کشمیر کو سب سے زیادہ اسی کی ضرورت ہے۔
٭٭٭
Share this content:


