پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومتِ پاکستان اور علاقائی انتظامیہ کی جانب سے طے شدہ معاہدے سے انحراف کے خلاف آج، 4 اکتوبر 2026 کو ریاست بھر میں ‘یومِ سیاہ’ منایا جا رہا ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کی کال پر ریاست بھر میں سیاہ پرچم لہرائے گئے ہیں جبکہ مرد، خواتین اور بچے سیاہ لباس اور سیاہ نقاب زیبِ تن کر کے حکومت کی وعدہ خلافیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
یاد رہے کہ ٹھیک ایک سال قبل، 4 اکتوبر 2025 کو حکومتِ پاکستان اور علاقائی انتظامیہ نے ‘جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی’ (JAAC) کے ساتھ عوام کے بنیادی انسانی حقوق، معاشی مطالبات اور دیگر اہم مسائل کی ضمانت دینے والے 38 نکاتی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
تاہم، ایک سال گزر جانے کے باوجود دونوں حکومتیں اپنے تمام طے شدہ وعدوں اور معاہدے کی شقوں پر عمل کرنے سے مکمل طور پر منحرف ہو چکی ہیں۔ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے مطابق گزشتہ چار ماہ کے دوران خطے میں ریاستی تشدد، ہلاکتوں، اور عوام کی حق تلفی و لوٹ مار کا سلسلہ تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے۔
حکمران اشرافیہ کی اس عہد شکنی اور مسلسل ناانصافیوں کے ردِعمل میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 4 اکتوبر کو ریاست گیر ‘یومِ سیاہ’ کا اعلان کیا۔ JAAC کی اپیل پر تمام کشمیری عوام اپنے شدید غصے اور بیزاری کا اظہار کرنے کے لیے مظاہروں میں بھرپور شرکت کر رہے ہیں۔
احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک 38 نکاتی معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں کیا جاتا اور فورسز کے تشدد کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، عوامی جدوجہد اور احتجاجی تحریک تمام تر رکاوٹوں کے باوجود جاری رہے گی۔
راولاکوٹ میں گذشتہ 4 مہینوں سے مرکزی دھرنا جاری ہے ۔آج مختلف علاقوں میں لوگ اجتماع کا انعقاد کرکے احتجاج ریکارڈ کرینگے۔
پاکستانی فورسز نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں اور فائرنگ وگرفتاریوں کی بھی اطلاعات سامنے آرہی ہیں جبکہ مختلف علاقوں سے قافلے مرکزی شہروں کی جانب روانہ ہورہے ہیں ۔انٹر نیٹ و فون سروسز مکمل بند ہیں۔
Share this content:


