ریاست جموں کشمیر: دو جوہری طاقتوں کے بیچ قید کشمیری، آخر آزاد کون؟

تحریر: خواجہ کبیر احمد

ریاست جموں کشمیر کے تنازع کو اگر ایک کشمیری شہری کی نظر سے دیکھا جائے تو بنیادی سوال یہ نہیں رہتا کہ بھارت کا مؤقف کیا ہے اور پاکستان کا مؤقف کیا ہے، بلکہ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ ریاست کے مختلف حصوں میں موجود دونوں طاقتوں کے کردار کو پرکھنے کے لیے پیمانہ ایک ہے یا دو؟ بھارت اور پاکستان دونوں جوہری طاقتیں ہیں، دونوں بڑی ریاستی و عسکری قوت رکھتے ہیں اور ریاست جموں کشمیر کے مختلف حصوں میں اپنا انتظامی و سیاسی کنٹرول رکھتے ہیں۔ اس لیے ایک کشمیری شہری کے نقطۂ نظر سے اصول سادہ ہے کہ اگر کسی ایک جانب طاقت کے استعمال، گرفتاری، جبری گمشدگی، سیاسی پابندی، شہری آزادیوں، زمین و وسائل یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو سوال بنایا جاتا ہے تو دوسری جانب بھی اسی نوعیت کے عمل کو اسی پیمانے پر پرکھا جانا چاہیے۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ایک ہی پیمانہ رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت اور پاکستان کے زیرِ انتظام علاقوں میں ہر واقعہ، ہر تعداد یا ہر تاریخی صورتحال کو مصنوعی طور پر ایک جیسا قرار دے دیا جائے۔ اعداد مختلف ہوسکتے ہیں، حالات مختلف ہوسکتے ہیں، قوانین مختلف ہوسکتے ہیں اور سیاسی پس منظر بھی مختلف ہوسکتا ہے۔ لیکن انسانی حقوق کے اصول مختلف نہیں ہوسکتے۔ ایک کشمیری شہری اگر بھارتی فورسز کی گولی سے مارا جائے تو اس کی جان کی قدر وہی ہے جو ایک کشمیری شہری کی پاکستانی فورسز کی گولی سے مارے جانے پر ہونی چاہیے۔ گولیاں ایک ہوں یا سو، انسانی جان کے بنیادی حق کی قدر تبدیل نہیں ہوسکتی۔

ریاست جموں کشمیر ایک متنازع ریاست ہے۔ بھارت کا اپنا مؤقف ہے، پاکستان کا اپنا مؤقف ہے، جبکہ کشمیریوں کے اندر بھی مختلف سیاسی تصورات اور مطالبات موجود ہیں۔ کوئی بھارت کے ساتھ الحاق کا حامی ہے، کوئی پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتا ہے، کوئی آزاد و خودمختار ریاست جموں کشمیر کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ بہت سے کشمیری اپنی سیاسی ترجیحات کو ان تصورات سے مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔ لیکن کشمیریوں میں ان تمام اختلافات کے باوجود ایک سوچ و فکر مشترک ہے اور وہ ہے ایک کشمیری شہری کے بنیادی حقوق۔

اسی لیے اصطلاحات کے استعمال میں بھی اصولی یکسانیت ضروری ہے۔ اگر ایک حصے کو ’’بھارتی زیرِ انتظام‘‘ کہا جاتا ہے تو دوسرے حصے کو ’’پاکستان کے زیرِ انتظام‘‘ کہنا چاہیے۔ اگر ایک جانب طاقت کے غلبے کو ’’بھارتی تسلط‘‘ کہا جاتا ہے تو دوسری جانب اسی نوعیت کے غلبے کو ’’پاکستانی تسلط‘‘ کے طور پر پرکھنے سے گریز نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی عمل کو ایک طرف ’’قبضہ‘‘ کہا جاتا ہے تو اسی معیار کو دوسری جانب بھی لاگو کیا جانا چاہیے۔ لفظ بدلنے سے ایک کشمیری شہری کے تجربے کی حقیقت نہیں بدلتی۔

اسی بحث میں Freedom House کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ ’’Freedom in the World 2026‘‘ ایک اہم دستاویزی حوالہ فراہم کرتی ہے۔ اس بین الاقوامی ادارے نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر، یعنی آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان، کو 100 میں سے صرف 30 پوائنٹس کے ساتھ ’’غیر آزاد‘‘ (Not Free) قرار دیا ہے۔ سیاسی حقوق کے لیے 40 میں سے صرف 9 اور شہری آزادیوں کے لیے 60 میں سے 21 پوائنٹس دیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں علاقوں میں منتخب اسمبلیاں اور حکومتیں موجود ہیں، مگر ان کے اختیارات محدود ہیں اور پاکستانی وفاقی اداروں کا سلامتی، عدلیہ اور اہم پالیسی معاملات پر غالب اثر ہے۔ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ اظہارِ رائے، تنظیم سازی اور ایسی سیاسی سرگرمیاں جو پاکستان کی کشمیر پالیسی سے متصادم سمجھی جائیں، محدود ہیں۔

دوسری جانب Freedom House نے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کو بھی آزاد قرار نہیں دیا بلکہ 100 میں سے 38 پوائنٹس کے ساتھ ’’جزوی آزاد‘‘ (Partly Free) قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2019 میں سابق ریاست کی آئینی خودمختاری ختم کیے جانے کے بعد اسے دو وفاقی زیرِ انتظام اکائیوں میں تقسیم کیا گیا، جس سے سیاسی حقوق متاثر ہوئے اور شہری آزادیوں پر بھی قدغنیں لگیں۔ رپورٹ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات، گرفتاریوں، اظہار و اجتماع کی پابندیوں اور سیاسی آزادیوں پر مختلف نوعیت کی پابندیوں کا بھی ذکر کرتی ہے۔

یہاں Freedom House کی درجہ بندی کے ایک اہم پہلو پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اس نے دونوں حصوں کو ایک ہی درجہ نہیں دیا؛ ایک کو ’’جزوی آزاد‘‘ اور دوسرے کو ’’غیر آزاد‘‘ کہا ہے۔ لیکن دونوں کے بارے میں ایک بنیادی حقیقت بہرحال سامنے آتی ہے: Freedom House نے ریاست جموں کشمیر کے کسی بھی زیرِ انتظام حصے کو ’’مکمل آزاد‘‘ قرار نہیں دیا۔ اس رپورٹ کا اصل اہم سوال یہی بنتا ہے کہ آزادی کو صرف کسی اسمبلی، حکومت یا انتخابات کی موجودگی سے نہیں ناپا جاسکتا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ عام شہری کو اظہارِ رائے، اجتماع، تنظیم سازی، سیاسی شرکت، آزادانہ سیاسی انتخاب، عدالتی تحفظ اور ریاستی طاقت سے تحفظ کے حقیقی حقوق کتنے حاصل ہیں۔

یہیں سے کشمیری نقطۂ نظر کا سوال مزید بنیادی ہوجاتا ہے۔ اگر ایک طاقت کے زیرِ انتظام علاقے میں محدود سیاسی اختیار اور شہری آزادیوں کو مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور دوسری طاقت کے زیرِ انتظام دوسرے علاقے میں بھی اس طاقت کے وفاقی اثر و رسوخ، سیاسی پابندیوں اور شہری آزادیوں کی محدودیت موجود ہے تو پھر دونوں کو ایک کشمیری شہری کے حقوق کے ایک ہی بنیادی پیمانے پر کیوں نہ پرکھا جائے؟ ’’زیرِ انتظام‘‘ ہونا اور ’’آزاد‘‘ ہونا ایک ہی چیز نہیں۔ نہ ہی زیرِ قبضہ ہونا یا زیرِ تسلط ہونا ایک چیز ہے۔

اور اگر آزادی کا اصل معیار یہ ہے کہ ایک انسان اپنے سیاسی مستقبل، اپنی آواز، اپنے اجتماع، اپنی تنظیم، اپنی زمین، اپنے وسائل اور اپنی حکومت کے بارے میں حقیقی اختیار رکھتا ہے، تو پھر یہ سوال محض سیاسی نعرہ نہیں رہتا کہ ریاست جموں کشمیر میں ایک کشمیری شہری خود کتنا بااختیار ہے؟

بھارتی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں انسانی حقوق کے مسائل کو صرف 5 اگست 2019 سے شروع ہونے والی صورتحال تک محدود کرنا بھی درست تاریخی تصویر پیش نہیں کرتا۔ 1980 کی دہائی کے آخر اور 1990 کی دہائی سے مسلح تنازع، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، اظہارِ رائے اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں کے حوالے سے سنگین الزامات اور دستاویزی مواد سامنے آتا رہا ہے۔ 5 اگست 2019 ایک اہم سیاسی و آئینی موڑ ضرور تھا، جب بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 سے متعلق خصوصی انتظام ختم کیا اور سابق ریاست کو دو وفاقی زیرِ انتظام اکائیوں میں تنظیمِ نو کیا، لیکن اس سے پہلے کی دہائیوں کو نظر انداز کرکے پوری تاریخ کو صرف 2019 کے بعد سے بیان کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔ Freedom House کی 2026 رپورٹ بھی 2019 کے بعد سیاسی حقوق میں کمی، شہری آزادیوں پر قدغنوں اور براہِ راست مرکزی کنٹرول کا ذکر کرتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں بھی حالیہ برسوں کے واقعات نے یہ سوال زیادہ نمایاں کردیا ہے کہ کیا انسانی حقوق کے اصول وہاں بھی اسی شدت سے لاگو ہوتے ہیں جس شدت سے انہیں بھارتی زیرِ انتظام حصے کے لیے اٹھایا جاتا ہے؟

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 2023 سے جاری عوامی حقوق کی تحریک اس کی ایک واضح مثال ہے۔ 2024 میں احتجاج کے دوران گرفتاریاں، آنسو گیس، انٹرنیٹ پابندیاں اور تشدد کے واقعات سامنے آئے، جبکہ مئی 2024 کے احتجاج میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ بعد ازاں 2025 میں بھی شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر حکومتِ پاکستان، اس کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی حکومت اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، لیکن اس پر عمل درآمد کے حوالے سے اختلافات برقرار رہے۔

2026 میں صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔ جون میں بڑے پیمانے پر احتجاج، ہڑتالوں، مواصلاتی پابندیوں اور ریاستی کارروائیوں کے دوران متعدد شہری اور فورسز کے اہلکار ہلاک ہوئے۔ احتجاجی حلقوں اور ریاستی حکام نے واقعات کی ذمہ داری کے بارے میں مختلف مؤقف اختیار کیے۔ حکام نے بعض مظاہرین پر مسلح حملوں اور تشدد کے الزامات عائد کیے، جبکہ احتجاجی قیادت نے ریاستی طاقت کے استعمال کو ذمہ دار قرار دیا۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق موجودہ تحریک کے دوران 90 سے زائد پُرامن اور نہتے احتجاجی شہری فورسز کی کارروائی میں ہلاک ہوئے اور ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان شہریوں کے خلاف بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا۔ اس مخصوص تعداد اور اس دعوے کی مکمل آزادانہ تصدیق ابھی ضروری ہے، کیونکہ مواصلاتی بندش اور معلومات تک محدود رسائی نے آزادانہ طور پر اعداد و شمار کی جانچ مشکل بنائی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی جون سے جاری بدامنی میں درجنوں افراد، جن میں زیادہ تر مظاہرین شامل تھے، کی ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام اموات کی فوری، جامع اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہاں سوال صرف ہلاکتوں کی تعداد کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی ریاستی طاقت کے ہاتھوں ایک شہری بھی غیر قانونی طور پر مارا جاتا ہے تو اس واقعے کی جواب دہی ضروری کیوں ہے، اور اگر دوسری ریاستی طاقت کے ہاتھوں کئی شہری مارے جانے کا الزام ہو تو وہاں بھی وہی اصول کیوں نہ اپنایا جائے؟

اسی تناظر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر کی گرفتاری بھی ایک اہم مثال بن کر سامنے آتی ہے۔ 30 جون 2026 کو مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر نے تصدیق کی کہ شوکت نواز میر کو پولیس اور ریاستی اہلکاروں نے گرفتار کیا اور بعد میں انہیں ایک نامعلوم مقام منتقل کیا گیا۔ ان کی حراست اور مقام کے بارے میں بعد میں متضاد اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ ان کے اہل خانہ کی جانب سے قانونی کارروائی بھی کی گئی۔

اگر کسی سیاسی یا عوامی تحریک کے رہنما کو گرفتار کیا جاتا ہے تو بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ گرفتاری کس قانون کے تحت ہوئی، اسے کہاں رکھا گیا، کیا اسے وکیل اور اہل خانہ تک رسائی حاصل ہے، کیا اسے عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور کیا اس کے بنیادی قانونی حقوق محفوظ ہیں؟ یہی سوال بھارتی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں کسی کشمیری سیاسی کارکن یا رہنما کی گرفتاری کے وقت بھی اٹھایا جانا چاہیے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں کشمیر کے بارے میں ہمارے عمومی سیاسی بیانیے کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ کیا انسانی حقوق کا دفاع صرف اس وقت کیا جائے گا جب خلاف ورزی کرنے والی طاقت ہمارے سیاسی تصور کے مخالف ہو؟ اور اگر وہی عمل ہمارے پسندیدہ یا قریب سمجھے جانے والے ملک یا طاقت کی طرف منسوب ہو تو کیا زبان بدل جائے گی، سوال بدل جائیں گے اور معیار بھی بدل جائے گا؟

اگر بھارتی فورسز کے ہاتھوں ایک کشمیری شہری کی ہلاکت پر سوال اٹھانا درست ہے تو پاکستانی فورسز کے ہاتھوں ایک کشمیری شہری کی ہلاکت پر بھی سوال اٹھنا چاہیے۔ اگر بھارتی زیرِ انتظام علاقے میں گرفتاری، جبری گمشدگی، اظہارِ رائے پر پابندی اور سیاسی کارکنوں کی حراست انسانی حقوق کا مسئلہ ہے تو پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں بھی یہی اعمال انسانی حقوق کا مسئلہ ہونے چاہئیں۔ اگر ایک جانب زمین، پانی، بجلی، معدنیات یا دوسرے وسائل پر مقامی آبادی کے حق کی بات کی جاتی ہے تو دوسری جانب بھی یہی سوال اٹھنا چاہیے کہ ان وسائل پر فیصلہ سازی میں اصل اختیار کس کا ہے اور فائدہ کس کو پہنچتا ہے۔

یہاں ’’ایک ہی پیمانہ‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت اور پاکستان کی ریاستی پالیسیوں، تاریخی حالات یا واقعات کی نوعیت کو مصنوعی طور پر برابر قرار دے دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی جان اور بنیادی حقوق کی قدر کسی ریاست کی شناخت کے تابع نہ ہوں۔ ایک کشمیری شہری کے لیے گولی بھارت کی طرف سے آئے یا پاکستان کی طرف سے، وہ گولی ہے؛ گرفتاری بھارتی فورسز کریں یا پاکستانی فورسز، شہری کی آزادی کا سوال اپنی جگہ موجود ہے؛ جبری گمشدگی کا الزام کسی بھی طرف ہو، اس کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

اسی لیے ریاست جموں کشمیر کے مسئلے کو صرف اس سوال تک محدود کرنا کہ ’’کشمیر کس کا ہے؟‘‘ شاید کافی نہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور سوال بھی کھڑا ہونا چاہیے: کشمیر میں ایک کشمیری شہری کا اختیار کہاں ہے؟ اگر ریاست کے ایک حصے میں فیصلہ سازی کا اختیار دہلی کے پاس ہے اور دوسرے حصے میں اہم معاملات پر اسلام آباد کا غالب اثر ہے، تو ایک کشمیری شہری کے اپنے سیاسی اختیار، اس کی آزادی اور اس کے حقِ حکمرانی کا سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔ Freedom House کی تازہ رپورٹ بھی پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر کے بارے میں یہی بتاتی ہے کہ منتخب اداروں کے باوجود ان کا اختیار محدود ہے اور پاکستان کے وفاقی اداروں کا سلامتی، عدلیہ اور اہم پالیسی معاملات پر غالب اثر برقرار ہے۔

یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں سے آج کا نوجوان کشمیری نقطۂ نظر ایک مختلف سوال اٹھاتا ہے کہ اگر ایک طرف ’’قبضے‘‘، ’’تسلط‘‘ یا ’’زیرِ انتظام‘‘ ہونے کی بحث ہے اور دوسری طرف آزادی کا دعویٰ، تو آزادی کو صرف ریاستی نام، پرچم، اسمبلی، انتخابات یا انتظامی ڈھانچے سے نہیں بلکہ ایک کشمیری شہری کے عملی حقوق سے ناپنا ہوگا۔ اور پھر نتیجہ خود بخود سامنے آتا ہے۔

اگر ریاست جموں کشمیر کو اس کے تاریخی اور متنازع جغرافیائی وجود کے ساتھ ایک مکمل اکائی سمجھ کر دیکھا جائے، اور اگر آزادی کا معیار بین الاقوامی انسانی و جمہوری حقوق، سیاسی خود اختیاری، آزادانہ اظہار، اجتماع، تنظیم سازی، منصفانہ قانونی تحفظ اور اپنے سیاسی مستقبل پر حقیقی اختیار کو بنایا جائے، تو پھر یہ سوال پوری شدت سے سامنے آتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کا کون سا حصہ واقعی آزاد ہے؟

بھارت اور پاکستان اپنے اپنے انتظامی و سیاسی دعوے رکھتے ہیں، مگر ایک کشمیری شہری کے تجربے کو مرکز میں رکھ کر دیکھا جائے تو ریاست کے دونوں جانب طاقت کے مراکز موجود ہیں، جبکہ مکمل سیاسی خود اختیاری کا حق ایک کشمیری شہری کے ہاتھ میں نہیں۔ اسی لیے ایک کشمیری شہری کے نقطۂ نظر سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کا ایک انچ بھی مکمل معنوں میں آزاد نہیں، اور اس ریاست میں بسنے والا کوئی ایک فرد بھی اس وقت تک مکمل طور پر آزاد نہیں کہا جاسکتا جب تک اسے اپنے سیاسی مستقبل، اپنے حقوق اور اپنی حکمرانی کے بارے میں حقیقی اور آزادانہ فیصلہ سازی کا اختیار حاصل نہ ہو۔

یہاں ’’آزادی‘‘ سے مراد محض سڑکوں پر چلنے، کاروبار کرنے یا روزمرہ زندگی گزارنے کی آزادی نہیں، بلکہ وہ سیاسی اور شہری آزادی ہے جسے بین الاقوامی انسانی حقوق اور جمہوری اصول تسلیم کرتے ہیں۔ اسی معیار سے دیکھا جائے تو مسئلہ صرف یہ نہیں رہتا کہ ریاست جموں کشمیر کے کس حصے پر کس کا انتظام ہے؛ اصل مسئلہ یہ بنتا ہے کہ ایک کشمیری شہری خود کہاں ہے؟ اس کا اختیار کہاں ہے؟ اس کی آزاد سیاسی آواز کہاں ہے؟ اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق کہاں ہے؟

لہٰذا اگر تمام واقعات، دونوں جانب کے ریاستی کردار، انسانی حقوق کی صورتِ حال، سیاسی آزادیوں کی پابندیاں اور Freedom House جیسی بین الاقوامی دستاویزات کو ایک ہی اصولی پیمانے پر سامنے رکھا جائے تو ایک کشمیری شہری کے نقطۂ نظر سے نتیجہ یہی بنتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کا کوئی ایک انچ بھی مکمل طور پر آزاد نہیں، اور نہ ہی اس پوری ریاست میں بسنے والا کوئی ایک شہری اپنے اجتماعی سیاسی مستقبل کے فیصلے کے اعتبار سے مکمل طور پر آزاد ہے۔

اور شاید کشمیر کے مسئلے کا سب سے بنیادی سوال بھی یہی ہے کہ اگر کشمیر میں سب کچھ کسی نہ کسی کے زیرِ انتظام ہے، تو پھر ایک کشمیری شہری خود اپنے وطن میں کہاں آزاد ہے؟

نوٹ : Freedom House کی تازہ ترین سالانہ مکمل رپورٹ ’’Freedom in the World 2026 اس لنک پر دستیاب ہے
https://freedomhouse.org/sites/default/files/2026-03/FIW2026_final_digital%20%281%29.pdf?utm_source=chatgpt.com

٭٭٭

Share this content: