بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کی تحصیل جیونی کے قریب سمندر میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی دو کشتیوں پر حملے کے نتیجے میں 15 سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
تاحال حکام کی جانب سے ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق، واقعے کے بعد جیونی میں فورسز کی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فورسز نے مقامی ماہی گیروں کو سمندر سے واپس بلا لیا ہے اور انہیں آئندہ احکامات تک سمندر میں جانے سے منع کر دیا ہے۔
تاحال کسی مسلح تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی سمندر میں پاکستانی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے سمندری کارروائیوں کے لیے اپنا الگ یونٹ، ’حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس‘ (Hammal Maritime Defence Force)، تشکیل دیا تھا۔
اس یونٹ نے اس سے قبل 12 اپریل 2026 کو جیونی کے قریب ’مِل تیاب‘ کے مقام پر پاکستانی بحریہ کی ایک گشتی کشتی کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار، نائیک افضل، سپاہی جمیل اور سپاہی عمر، ہلاک ہوئے تھے۔
Share this content:


