نئی دہلی میں لاک ڈاؤن: الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج، ہزاروں گرفتار اور انٹرنیٹ معطل

نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ اور انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف "کاکروچ جنتا پارٹی” (CJP) اور مختلف طلبا تنظیموں کی کال پر جاری احتجاج کے پیش نظر شہر کو سیکیورٹی چھاونی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ دارالحکومت میں امن و امان کی شدید کشیدہ صورتحال کے دوران پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے۔

مظاہروں کو روکنے کے لیے کیے جانے والے حکومتی اقدامات کے تحت پولیس نے سی جے پی کے رہنماؤں (جن میں ابھیجیت دیپکے اور دیگر شامل ہیں) سمیت سات ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔ مرکزی رہنماؤں کو ہوائی اڈوں اور رہائش گاہوں سے ہی حراست میں لینے کے باوجود کارکنان اور عوام پابندیوں کو توڑتے ہوئے احتجاجی مقامات کی طرف بڑھتے رہے۔

دارالحکومت میں احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے انتظامیہ نے غیر معمولی سیکیورٹی حصار قائم کیا ہے:

دہلی کے مختلف حساس حصوں اور جنتر منتر کے اطراف حفاظتی انتظامات کے لیے 23 ہزار نیم فوجی اہلکاروں (Paramilitary Forces) اور تقریباً 5 ہزار دہلی پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 35 ہزار کے قریب سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

سڑکوں پر بھاری بیریکیڈنگ کی گئی ہے اور شہر کے اہم داخلی راستوں پر سخت اسنیپ چیکنگ جاری ہے۔

مظاہرین کو منظم ہونے سے روکنے اور معلومات کی ترسیل کو محدود کرنے کے لیے سخت مواصلاتی و نقل و حمل کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں:

جنپتھ، کارتویہ پاتھ اور مرکزی دہلی کے متعدد حساس زونز سمیت کم از کم 8 سے زائد مقامات اور اہم احاطوں میں موبائل انٹرنیٹ اور ڈیٹا سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔

دہلی میٹروبورڈ کے 50 سے زائد اسٹیشنز کے اندر اور باہر جانے کے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی ریلووی اسٹیشنز پر آنے والی چند ٹرینوں کے اوقات کار متاثر اور رابونگ روٹس پر ٹریفک کی نقل و حرکت سخت جانچ پڑتال کے زمرے میں لائی گئی ہے۔

بھاری پولیس فورس، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود مظاہرین اور طلباء کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جمہوری حقوق اور مطبوعہ مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے، جبکہ سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے اس کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔

Share this content: