پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمر جنسی کے نفاذ کے بعدپاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پارٹی کے دیگر سینیئر رہنما بھی حراست میں لے لیے گئے ہیں۔
پی ٹی آئی کے ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری اکرام کھٹانہ کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں صوبائی صدر جنید اکبر، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک بھی شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ پر حملہ ہے اور منتخب عوامی نمائندوں کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کارکن جلد سڑکوں پر ہوں گے کیونکہ صوبائی صدر پہلے ہی اس حوالے سے ہدایات جاری کر چکے ہیں۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سکیورٹی اداروں اور صوبائی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں مشیر داخلہ کفایت اللہ خان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم امجد علی خان، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ محمد کاشف عالم، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید، جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل آئی بی ارشد علی خان سمیت دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران گورنر کو صوبے میں امن و امان، انسداد دہشت گردی اقدامات اور مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ موجودہ حالات کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا کہ صوبے بھر کے تعلیمی ادارے آج بند رکھے جائیں گے۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پشاور میں نصب کنٹینرز کو مرحلہ وار ہٹایا جائے گا، جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی ضرورت کے مطابق جزوی طور پر بحال کی جائے گی تاکہ معمولاتِ زندگی بتدریج بحال ہو سکیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے انتظامیہ اور پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کے باوجود کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کا پیش نہ آنا خوش آئند ہے۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی بیوروکریسی اور پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے ایک درجن سے زیادہ ڈپٹی کمشنروں کو تبدیل کرتے ہوئے انھیں ہیومن ریسورس منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تبادلوں کی زد میں آنے والے افسران میں واصف رحمان (مردان)، طارق اللہ (صوابی)، مقبول حسین (چترال لوئر)، منظور آفریدی (دیر اپر)، عبداللہ شاہ (شانگلہ)، فیاض شیرپاؤ (ملاکنڈ)، سلیم جان (سوات)، سہیل احمد (اپر سوات)، محمد شعیب (بٹگرام)، خالد اقبال (مانسہرہ)، سرمد سلیم (ایبٹ آباد)، اصلاح الدین (ہری پور)، کیپٹن ثناء اللہ (پشاور)، فضل رحیم (چارسدہ)، محمد فہیم (بنوں)، حمیداللہ (لکی مروت) اور اسد سرور (کرک) شامل ہیں۔
حکومت کی جانب سے متعدد اضلاع میں نئے ڈپٹی کمشنر بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ان میں شاہ سعود کو مردان، نصر اللہ کو صوابی، وسیم احمد کو ہری پور، احسان اللہ کو چترال لوئر، عارف خان کو ملاکنڈ، دلنواز خان کو دیر اپر، شہریار قمر کو اپر سوات، گوہر علی کو بٹگرام، یاسر علی کو مانسہرہ، میاں بہزاد عادل کو ایبٹ آباد، شاہد رفیق کو لکی مروت، منصور ارشد کو چارسدہ، آفاق وزیر کو پشاور، ضیاء الرحمان کو بنوں اور عدنان ابرار کو سوات کا ڈپٹی کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔
Share this content:


