دی انڈیپنڈنٹ رپورٹ: پاکستان زیرِ انتظام کشمیر میں ریاستی فائرنگ اور تشدد سے 90 ہلاکتوں کی تصدیق

برطانیہ کے معروف عالمی جریدے ’دی انڈیپنڈنٹ‘ (The Independent) نے اپنی ایک بااثر تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات اور عوامی احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں، اجباری گمشدگیوں اور غیر قانونی حراست کے بعد متعدد متاثرہ خاندان تاحال اپنے پیاروں کے قتل اور گمشدگیوں پر جوابدہی اور انصاف کی تلاش میں ہیں۔

انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق، راولاکوٹ کے رہائشی فہد برکت کی بہن دو ماہ سے زائد عرصے تک اس امید میں رہی کہ اس کا بھائی پولیس کی حراست میں ہے اور جلد گھر واپس آ جائے گا۔ فہد 7 جون کی رات 11:31 بجے آخری بار رابطہ کرنے کے بعد راولاکوٹ کے ملٹری ہسپتال میں خون کا عطیہ دینے گیا تھا جہاں سے وہ کبھی واپس نہ لوٹا۔ بعد میں اس کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی، جس پر ایک مقامی انسانی حقوق کی تنظیم (JKHRO) نے غیر جانبدارانہ شفاف تحقیقات، ہسپتال کے بلڈ ڈونر لاگ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، انسانی حقوق کے لیے فعال ادارے جامو اینڈ کشمیر ہیومن رائٹس آرگنائزیشن (JKHRO) نے دستاویز کیا ہے کہ جون 2026 سے بلدیاتی و عمومی تناظر میں خطے کے اندر کم از کم 90 افراد ریاست کے شدید تشدد اور فائرنگ کے واقعات میں لقمہ اجل بنے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JK-JAAC) کے زیرِ اہتمام مہنگائی، گندم پر سبسڈیز اور بنیادی حقوق کے لیے چلنے والی سول مزاحمتی تحریک کو دبانے کے لیے شدید فورسز کا استعمال کیا گیا، جن میں کرفیو، انٹرنیٹ کی طویل بندش اور سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں کی فورتھ شیڈول کے تحت حراستیں شامل ہیں۔

‘دی انڈیپنڈنٹ’ نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ جب انہوں نے ان سنگین الزامات، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر آزاد کشمیر حکومت، وزات داخلہ، وزیراعظم آفس اور پولیس سے موقف مانگا تو حکام کی طرف سے کوئی شفاف جواب پیش نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے اس معاملے پر مسلسل پرسرار خاموشی عوامی اعتماد کو یکسر ختم کر رہی ہے اور خطے میں بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

Share this content: