اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد نتائج اور ایگزٹ پولز کے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے مطابق اپوزیشن اتحاد نے پیش رفت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عوام نے طویل عرصے سے اقتدار پر قابض وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی دائیں بازو کی حکومت کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیل کی سنٹرل الیکشن کمیٹی کے مطابق ان انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو 1999 کے بعد سے اب تک کا سب سے بلند ترین ٹرن آؤٹ ہے۔ رات 10 بجے پولنگ کے اختتام تک 56 لاکھ 95 ہزار سے زائد شہریوں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نے نتائج پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ "اسرائیل کی ریاست نے آج خود کو بچا لیا ہے اور نیتن یاہو حکومت کو تاریخی و واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔”
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں یائر لیپڈ نے زور دیا کہ عوام نے تبدیلی کا فیصلہ دے دیا ہے اور اب سب سے پہلے ایک نئی ‘صیہونی حکومت’ کی تشکیل ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کو بہترین شریکِ کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے قانون کی حکمرانی اور اداروں پر اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔
سابق آرمی چیف اور اپوزیشن اتحاد کے رہنما گادی آئزن کوٹ نے بھی اپنے حامیوں سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ووٹرز نے نیتن یاہو کی تسلسل کے ساتھ جاری حکمرانی کے خلاف فیصلہ سنا دیا ہے اور وہ جلد نئی حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے نیتن یاہو کو تنبیہ کی کہ قومی سلامتی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کو نیتن یاہو کی جانب سے حکومت سازی کے عمل کو متاثر کرنے اور سیاسی غیر یقینی بڑھانے کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ ہے۔
سابق آرمی چیف کی جماعت ‘یاشر’ کی رہنما اوریت فرکاش ہاکوہن نے برطانوی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کے اتحادی بلاک کو تقریباً 20 نشستوں کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس کے بعد اب ان کے پاس پارلیمان (کنیسٹ) میں اکثریت قائم رکھنے کی پوزیشن نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی عوام نے دوٹوک انداز میں نیتن یاہو کی قیادت کو مسترد کر کے نئی طرز کی قیادت کا انتخاب کر لیا ہے۔
ایگزٹ پولز کے مطابق اپوزیشن اتحاد کو نیتن یاہو کے بلاک پر معمولی برتری حاصل ہے، تاہم کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کا حتمی جادوئی نمبر حاصل کرنے کے لیے دونوں جانب سے جوڑ توڑ جاری ہے۔
Share this content:


