راولاکوٹ میں کشمیریوں نے تمام تخمینوں کو غلط ثابت کر دیا، سینئر صحافی اعزاز سید

پاکستان کے سینئر صحافی اعزاز سید نے آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے رہنما عمر نذیر کشمیری کی قیادت میں جاری عوامی احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام نے اپنے پُرعزم جدوجہد سے تمام تر منفی اندازوں اور الزامات کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے ایک اہم بیان میں اعزاز سید نے کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں حقوق اور مطالبات کی جنگ لڑنے والے کشمیریوں نے احتجاج کی ایک ایسی نئی تاریخ رقم کی ہے جسے اب کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اعزاز سید کے مطابق ناقدین اور مخالفین نے مظاہرین پر طرح طرح کے الزامات عائد کیے، انہیں ‘ملک دشمن’ اور ‘غیر ملکی ایجنڈے’ کا حصہ قرار دے کر ان کی سچی جدوجہد کو بدنام کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ تمام حربے بے اثر ثابت ہوئے۔ نہ تو من گھڑت الزامات ان کے عزم کو متزلزل کر سکے اور نہ ہی انتظامیہ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شدید دباؤ یا حکمتِ عملی ان کے احتجاج کی شدت کو کم کر سکی۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اب یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ نئی حکومت بعض اہم آئینی تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں سڑکوں پر احتجاج کرنے والے ان کشمیریوں کے لیے جلد کوئی خوشخبری سامنے آ سکتی ہے۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آنے والے دن کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور اس بیدار عوامی جدوجہد کا حتمی انجام کیا ہوتا ہے۔

بیان کے اختتام پر اعزاز سید نے زور دیتے ہوئے لکھاکہ "نتیجہ جو بھی نکلے، لیکن ایک بات اب بالکل طے ہو چکی ہے؛ ان کشمیریوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب لوگ اپنے جائز مطالبات کے لیے ڈٹ جائیں تو انہیں محض الزامات، ریاستی دباؤ اور بدنامی کے حربوں سے خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں احتجاج کی ایک ایسی نئی تاریخ رقم کر دی ہے، جسے تاریخ میں نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔”

Share this content: