چالان میں سردار اویس سمیت 14 افراد کے نام شامل، وکیل جنید اکبر کے مطابق مقدمے کی اگلی سماعت 11 نومبر کو ہوگی۔
باغ: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے روزنامہ شاداب کے کارکن صحافی اور ینگ جرنلسٹس فورم باغ کے صدر سردار اویس کی گرفتاری کو چار ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔ ان کے وکیل جنید اکبر کے مطابق پولیس نے 16 اکتوبر کو نامکمل چالان ضلعی فوجداری عدالت میں پیش کیا، جس میں سردار اویس سمیت 14 افراد کے نام شامل ہیں۔
وکیل جنید اکبر کے مطابق پولیس نے چالان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ سردار اویس کے موبائل فون سے چمیاٹی کے علاقے میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق ویڈیوز اور اسکرین شاٹس موصول ہوئے ہیں۔ یہ واقعات 29 ستمبر 2025 کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) کے لانگ مارچ کے دوران پیش آئے تھے۔
چالان میں پولیس کے مطابق اس روز پیش آنے والے پُرتشدد واقعات کے سلسلے میں 500 معلوم جبکہ 5,500 سے 6,000 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ہے۔ چالان میں سردار اویس سمیت دیگر افراد کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
سردار اویس کو 21 جون 2026 کو مقامی پولیس نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ اپنے بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں ایک اسکول میٹنگ میں موجود تھے۔ وہ ستمبر 2025 میں جیک کے لانگ مارچ کے دوران چمیاٹی، دھیرکوٹ میں کوریج کر رہے تھے، جہاں پُرتشدد واقعات پیش آئے تھے۔
ان کے وکیل جنید اکبر کے مطابق سردار اویس کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے، تاہم جیل میں قیدیوں کے لیے گنجائش نہ ہونے کے باعث انہیں دھیرکوٹ حوالات میں رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی دعوہ ہے کہ مقامی سیاست دانوں کی سفارش پر ملزمان کو جیل منقل کیا جاتا ہے
وکیل کے مطابق سردار اویس کو گزشتہ روز ضلعی فوجداری عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد اب انہیں 11 نومبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
Share this content:


