باغ میں دھماکہ: ایک ہی خاندان کے 4 افراد ہلاک ، ایک بچی زخمی

کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ کے جنوب میں واقع گاؤں پندی میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد ہلاک جبکہ ایک بچی زخمی ہو گئی ہے۔

مقامی حکام اور عینی شاہدین کے مطابق یہ دلخراش واقعہ جمعرات کی شام سات سے آٹھ بجے کے درمیان پیش آیا۔ دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، تاہم ابتدائی معلومات کے مطابق اس حادثے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ ایک بچی شدید زخمی ہوئی۔

ہلاک ہونے والوں میں شازیہ شفقت (عمر تقریباً 40 سے 42 سال، زوجہ شفقت) والدہ شفقت (عمر تقریباً 80 سال) حارث شفقت (بیٹا، عمر تقریباً 11 سال) ملائکہ شفقت (بیٹی، عمر تقریباً 8 سال) شامل ہیں۔

جبکہ اس حادثے میں زخمی ہونے والی انیقا شفقت (عمر تقریباً 17 سے 18 سال) کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال باغ منتقل کیا گیا۔

اس واقعے کے متعلق JKJAAC کے کور ممبر عابد شاہین کا کہنا ہے کہ "اس مقام پر جیمر کے باعث موبائل سروس نہیں، اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ فورسز کی جانب سے یہ ڈرون اٹیک تھا یا گرنیڈ حملہ، اس علاقے میں فورسز کا قبضہ ہے اس گھر کو جان بوجھ کر فورسز کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس علاقے میں خواتین کی مزاحمت فورسز کو کئی بار پیچھے ہٹنے پر مجبور کر چکی ہے، اس واقعے میں زخمی ہونے والی بچی انیقا اس سے قبل بھی مزاحمت کے دوران فورسز کی شیلنگ سے زخمی ہو چکی ہے”۔

ڈپٹی کمشنر باغ ممتاز کاضمی نے میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گاؤں پندی میں شفقت کے گھر میں گرنیڈ کا واقعہ پیش آیا ہے، جو کہ بیرون ملک مقیم ہیں۔

ان کے مطابق واقعے میں بیوی، والدہ، بیٹا اور بیٹی ہلاک ہوئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ زخمی بچی کو ابتدائی طبی امداد کے لیے باغ ہسپتال لایا گیا تھا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر ہے، تاہم مزید تشخیصی مراحل (سٹی سکین) کے لیے اسے مظفرآباد منتقل کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ گاؤں باغ سے کافی فاصلے پر واقع ہے اور سکیورٹی فورسز کے دستے جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔ ابتدائی شبہات کے مطابق اس علاقے (چترا ٹوپی) میں گزشتہ کچھ دنوں سے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات تھیں جو مبینہ طور پر فائرنگ اور گرنیڈ کا استعمال کر رہے تھے، اور واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔

Share this content: