جنوبی باغ کوٹھیاں میں پاکستانی فورسز کا دھرنے پر لشکر کشی، خواتین پر تشدد

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے جنوبی باغ کوٹھیاں سے انتہائی تشویشناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق آج رات تقریباً 3:00 بجے کے قریب پاکستانی فورسز کی درجنوں گاڑیوں نے کوٹھیاں کے مقام پر قائم پُرامن عوامی دھرنے پر اچانک حملے کر کے اسے زبردستی منتشر کر دیا۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ فورسز نے اس راستے سے پیش قدمی کی جسے مقامی عوام نے رکاوٹیں لگا کر بند کر رکھا تھا۔ پہلے مقامی سہولت کاروں کے ذریعے راستہ کلیئر کروایا گیا اور اس کے بعد فورسز کی بھاری نفری کو موقع پر بلا کر دھرنے کے مقام کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا گیا۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس کے مطابق، دھرنا گاہ پر قابض ہونے کے بعد فورسز جنوبی باغ کوٹھیاں کے علاقے دولاڑیاں کے تمام گھروں میں گھس گئی ہیں، جہاں گھروں میں موجود خواتین اور بچوں کو مسلسل ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے۔ اس پرآشوب صورتِ حال کے بعد مقامی عوامی حلقوں نے گردونواح کے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر گھروں سے باہر نکلیں اور فورسز کے اس ریاستی جبر کے خلاف متاثرہ خاندانوں کا ساتھ دیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل جنوبی باغ کے علاقے پندی میں ایک گھر پر بم حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جن میں 2 بچے اور 2 خواتین شامل تھیں۔ تباہ شدہ گھر سے روسی ساختہ بموں کے ٹکڑے ملے تھے، جس پر عوام کا کہنا ہے کہ فورسز کے منہ کو خون لگ چکا ہے اور وہ ایک پورا خاندان تباہ کرنے کے بعد اب مزید نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

آزاد کشمیر بھر میں سستے آٹے اور بجلی کے مطالبات سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب ریاستی گرفتاریوں، شہادتوں، اور ناکہ بندیوں کے خلاف ایک منظم قوم پرور عوامی لہر کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ میڈیا پر عائد شدید سنسرشپ اور مواصلاتی پابندیوں کے باوجود، عوام کا عزم قائم ہے اور فورسز کے ہر تشدد کے بعد تحریک مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

Share this content: