کشمیر کے سرحدی راستوں پر پاکستانی فورسز کی ناکہ بندی شدید تر، عوام محصور

پاکستان اور آزاد کشمیر کی سرحد پر قائم اہم ترین راستوں پر پاکستانی فورسز کی جانب سے عوام کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں اور ناکہ بندی میں مزید سختی کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق آزاد پتن بارڈر پر، جہاں پہلے پاکستانی فورسز ہر چار سے پانچ گھنٹے بعد چھوٹی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت دیتی تھیں، اب صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔

فورسز پورا دن گاڑیوں کو مکمل طور پر روکے رکھتی ہیں اور صرف مغرب کے وقت ایک گھنٹے کے لیے راستہ کھول کر دوبارہ مکمل بند کر دیتی ہیں، جس کے باعث سرحد کے دونوں جانب گاڑیوں اور مسافروں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

آزاد پتن پر فرنٹیئر کور (FC) کے اہلکاروں نے سخت ناکہ لگا رکھا ہے اور کسی بھی شہری کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جس کے پیشِ نظر عوامی حلقوں نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب، ٹائیں ڈھلکوٹ کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سڑک پر مٹی ڈال کر راستوں کو مکمل طور پر بلاک کر دیا ہے۔ فورسز مقامی شیفا ہوٹل اور سکول کی عمارتوں میں مقیم ہیں۔ اس شدید ناکہ بندی اور ریاستی دباؤ کے باوجود دوسری طرف جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کا دھرنا تمام تر چیلنجز کے باوجود مکمل جذبے اور عزم کے ساتھ بدستور جاری ہے۔

Share this content: