اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے تحت متعدد خصوصی رپورٹرز اور ورکنگ گروپس نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (AJK) میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر انسدادِ دہشت گردی قانون (ATA 2014) کے تحت پابندی عائد کرنے، پرامن مظاہرین پر فورسز کے طاقت کے بے دریغ استعمال اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں پر حکومتِ پاکستان کو ایک تفصیلی اور سخت مراسلہ (Ref.: AL PAK 4/2026) جاری کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے 5 جون 2026 کو محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے JAAC کو "کالعدم تنظیم” قرار دیے جانے کے اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ایکشن کمیٹی تاجروں، وکلاء، ٹرانسپورٹرز اور سول سوسائٹی کے کارکنان کا ایک اتحاد ہے جو 2023 سے اقتصادی، سماجی اور بنیادی سیاسی حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کر رہا ہے۔ ریاست کی جانب سے بغیر کسی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ثبوت کے ایکشن کمیٹی کو دہشت گرد قرار دینا بین الاقوامی قوانین (خصوصاً ICCPR) کی شدید ورزی ہے۔
مراسلے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پابندی سے محض چند دن قبل تک (28 مئی 2026) آزاد کشمیر انتظامیہ اور وفاقی حکومت خود JAAC کے نمائندوں سے باضابطہ مذاکرات اور معاہدے کر رہی تھی۔ اسمبلی انتخابات (27 جولائی 2026) سے قبل اور پناہ گزینوں کی 12 نشستیں ختم کرنے کی مہم کے عین وقت پر ایکشن کمیٹی پر اچانک دہشت گردی کا لیبل لگانا انتقامی کارروائی کو ظاہر کرتا ہے۔
جون 2026 سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور راولاکوٹ تا مظفرآباد "لانگ مارچ” کو روکنے کے لیے فورسز نے شدید شیلنگ، لاٹھی چارج اور براہِ راست سیدھی فائرنگ (Live Ammunition) کا استعمال کیا۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق اب تک کم از کم 96 پرامن مظاہرین شہید ہو چکے ہیں، جن میں 15 سے 35 سال کے نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
اطلاعات کے مطابق شہداء کے لواحقین کو لاشیں وصول کرنے کے لیے زبردستی ان کاغذات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا کہ ان کے بچے "دہشت گرد” تھے۔
رپورٹ کے مطابق 205 سے زائد افراد (بشمول خواتین) کے نام فورنتھ شیڈول (Fourth Schedule) میں ڈالے گئے ہیں۔ ان کے شناختی کارڈ معطل، بینک اکاؤنٹس منجمد اور پاسپورٹ منسوخ کر دیے گئے ہیں تاکہ وہ طبی سہولیات اور آزادانہ نقل و حرکت سے محروم ہو جائیں۔ 70 سے زائد افراد بشمول صحافیوں کو دہشت گردی کی دفعات کے تحت گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ریاست کی جانب سے پورے خطے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بندش، کرفیو کے نفاذ، ہسپتالوں کی بندش اور زخمیوں کو طبی امداد سے محروم رکھنے کے اقدامات کو اقوامِ متحدہ نے "اجتماعی سزا” (Collective Punishment) سے تعبیر کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ نے حکومتِ پاکستان سے 60 دنوں کے اندر درج ذیل امور پر جواب طلب کیا ہے:
JAAC کو دہشت گرد قرار دینے کے قانون و ثبوتی شواہد پیش کیے جائیں۔
اس فیصلے کے خلاف عدالتی اپیل یا ریلیف کے عمل کی وضاحت کی جائے۔
پرامن مظاہرین پر طاقت کے استعمال، قتل عام اور بدترین تشدد کی تحقیقات کے لیے کیے گئے اقدامات کا تفصیلی بائیو ڈیٹا فراہم کیا جائے۔
205 شہریوں کے نام فورنتھ شیڈول میں ڈالنے اور ان کی شہریت و معاشی حقوق سلب کرنے کا قانونی جواز فراہم کیا جائے۔
یہ مراسلہ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق اور انسدادِ دہشت گردی کے درج ذیل اسپیشل رپورٹرز کی جانب سے مشترکہ طور پر ارسال کیا گیا ہے:
بین سؤل (Ben Saul): اسپیشل رپورٹر برائے انسانی حقوق و انسدادِ دہشت گردی۔
گانا یوڈکیو سکا (Ganna Yudkivska): چیئر-رپورٹر، ورکنگ گروپ برائے غیر قانونی حراست۔
مورس ٹیڈبال-بنزم (Morris Tidball-Binz): اسپیشل رپورٹر برائے ماورائے عدالت قتل و تشدد۔
جینا رومیرو (Gina Romero): اسپیشل رپورٹر برائے پرامن اجتماع و تنظیم سازی کے حقوق۔
لیوپولڈو مالڈوناڈو گٹیرز (Leopoldo Maldonado Gutiérrez) اور دیگر۔
Share this content:


