لوئر کوٹھیاں میں فورسز کا گھروں پر دھاوا ، ٹاہیں ڈھلکوٹ پل پر فورسز کا قبضہ اور دھرنا بدستور جاری

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری عوامی لہر کو دبانے کے لیے پاکستانی فوج اورمقامی انتظامیہ کی جانب سے جبر و تشدد کے نئے سلسلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لوئر کوٹھیاں (دولاڑیاں) محلے میں مقامی پولیس کی ٹیم نے بدمعاشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے علاقے پر دھاوا بول دیا ہے اور پورے محلے کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مقامی پولیس اہلکار کی سربراہی میں فورسز بلا اجازت ہر گھر میں گھس کر چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کر رہی ہیں، تمام خواتین کے ساتھ مسلسل بدتمیزی اور نازیبا سلوک کیا جا رہا ہے جبکہ انہیں بار بار سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ اس دوران تین مقامی نوجوانوں کو شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں جان سے مارنے اور سخت نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

اس ریاستی فسطائیت پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے کور ممبر عمر نذیر کشمیری نے واضح کیا کہ "ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال اور بربریت عوام کے انقلابی عزم کو نہ پہلے شکست دے پائی ہے اور نہ آئندہ کبھی دے پائے گی۔ حکمران فوری طور پر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے پیش کردہ تمام جائز مطالبات پر فی الفور عمل درآمد یقینی بنائیں۔”

دوسری جانب ٹاہیں ڈھلکوٹ انٹری پوائنٹ سے موصول ہونے والی اپ ڈیٹس کے مطابق، پاکستانی فورسز نے ٹاہیں ڈھلکوٹ کے اہم پل کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ راستوں پر بھاری فورسز کی تعیناتی کی وجہ سے ٹریفک کی آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے، جبکہ سرحد سے پیدل گزرنے والے عام شہریوں کو بھی فورسز کے ناکوں پر شدید تذلیل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

فورسز کے اس سخت محاصرے اور قبضے کے عین مقابل جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا پُرامن دھرنا تمام تر نامساعد حالات کے باوجود مکمل عزم اور جذبے کے ساتھ بدستور جاری ہے۔

Share this content: