راولاکوٹ کشیدگی کے خلاف مظفرآباد میں احتجاج، پولیس آپریشن اور گرفتاریاں

فرحان طارق /مظفرآباد

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں راولاکوٹ میں دو روزہ کشیدگی اور ہلاکتوں کے بعد خطے کے مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ہفتے کے روز مظفرآباد کے علاقے لوئر پلیٹ میں بھی شہریوں نے گزشتہ روز راولاکوٹ میں ہونے والے مبینہ ڈرون حملوں اور پرتشدد واقعات کے خلاف احتجاج کیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق ہفتے کی دوپہر لوئر پلیٹ کے علاقے میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ احتجاج کے باعث پلیٹ کی مارکیٹ بھی بند رہی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس کے استعمال کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق ہفتے کی شب تقریباً آٹھ بجے لوئر پلیٹ پائلٹ نمبر دو سکول کے قریب پولیس کی جانب سے آپریشن شروع کیا گیا ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آپریشن کے دوران اب تک تقریباً 20 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم تھانہ سٹی مظفرآباد کے ایس ایچ او جاوید گوہر نے گرفتاریوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کی۔

ایس ایچ او جاوید گوہر کے مطابق پولیس کی مختلف ٹیمیں مختلف مقامات پر کارروائی میں مصروف ہیں، کیونکہ مظاہرین کسی ایک مقام پر موجود نہیں بلکہ مختلف گلیوں میں منتشر ہیں۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر مظفرآباد نے بھی مظاہرین کی گرفتاریوں کے اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی۔

مقامی ذرائع کے مطابق مظاہرین کی جانب سے لوئر پلیٹ کے پائلٹ نمبر دو کے علاقے میں دھرنا دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جس کے بعد پولیس نے علاقے میں کارروائی شروع کی۔ جیک کی جانب سے مظفرآباد میں ہونے والی گرفتاریوں کے متعلق تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا

ادھر مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پولیس کی جانب سے عام موٹر سائیکلوں پر سوار شہریوں کو بھی روکا جا رہا ہے اور ان کے موبائل فون چیک کیے جا رہے ہیں۔

تاہم پولیس کی جانب سے شہریوں کو روکنے اور موبائل فون چیک کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

راولاکوٹ میں گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والی کشیدگی، ہلاکتوں اور مبینہ ڈرون حملوں کے بعد خطے کی حکومت کی جانب سے ممنوعہ قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دریک عید گاہ راولاکوٹ میں مشعل بردار ریلی نکالی جارہی ہے۔

Share this content: