پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پونچھ اور مظفرآباد میں پاکستانی فورسز کے آپریشن اور کارروائیوں کے خلاف حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں، جبکہ مختلف علاقوں میں فورسز کی اندھا دھند فائرنگ، ڈرون پروازوں اور گرفتاریوں کے بعد عوامی احتجاج کا دائرہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔
راولاکوٹ شہر اور اس کے گرد و نواح میں فورسز کی جانب سے فائرنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق پونچھ کے مختلف علاقوں میں صبح سے کم از کم 11 ڈرونز مسلسل پروازیں کر رہے ہیں۔ فائرنگ کی شدت اور حد اس قدر وسیع ہے کہ راولاکوٹ شہر سے ہونی والی فائرنگ کے اثرات کوٹ متے خان تک محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں خالد ابراہیم کے مقبرے کے قریبی رہائشی مکانات پر بھی گولیاں لگنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔
علاوہ ازیں صبح کے وقت ترنوٹی کے مقام پر بھی شدید فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، تنازع کے دوران فورسز کے اہلکاروں سے منسوب یہ تشویشناک الفاظ بھی سامنے آئے ہیں کہ "یہ بہت سخت جان لوگ ہیں، انہیں ہٹانے کے لیے کوئی دوسرا پلان بنانا پڑے گا”، جس سے عوام میں مزید تشویش اور خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
شدید فائرنگ اور گولاباری کے باوجود عمر فاروق چوک میں عوام کا ایک بڑا اجتماع موجود ہے، جبکہ خطے کے دیگر علاقوں سے مزید قافلے راولاکوٹ پہنچ رہے ہیں۔
پونچھ ڈویژن کے تمام شہریوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ فوری طور پر عمر فاروق چوک پہنچ کر دھرنے میں شمولیت اختیار کریں۔
راولاکوٹ میں جاری بربریت کے خلاف مظفرآباد کے علاقے چہلہ بانڈی میں شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا ہے۔
مظاہرین نے راولاکوٹ آپریشن کے خلاف سڑکوں پر نکل کر مین روڈ کو بلاک کر دیا، جس پر پولیس کی جانب سے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی گئی۔
دوسری جانب کھاوڑہ ڈنہ کچیلی سہوتر کے مقام پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج پر ڈنہ پولیس نے دھاوا بول دیا۔ پولیس فورسز کی سخت کارروائی کے نتیجے میں متعدد ایکشن کمیٹی کارکنان زخمی ہو گئے جبکہ پولیس نے کئی فعال کارکنوں کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
Share this content:


