افغانستان سے امریکی انخلا کیلئے بائیڈن نے خراب ترین آپشن چنا،جنرل مکینزی

0
153

افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلا کی نگرانی کرنے والی امریکی کمانڈ سیٹکام کے سابق جنرل مکینزی نے اپنی نئی کتاب میں لکھا ہے کہ صدر جوبائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے لیےدیے گئے فوجی آپشنز میں سے” خراب ترین آپشن” کا انتخاب کیا تھا۔

ریٹائرڈ جنرل فرینک مکینزی نے منظر عام پر آنے والے ایک نئی کتاب ’دی میلٹنگ پوائنٹ‘ میں لکھا ہے کہ انہوں نے فروری 2021 میں صدر بائیڈن کو افغانستان کے بارے میں چار فوجی آپشنز کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

جن میں پہلا یہ تھا کہ افغانستان میں تقریباً 2500 امریکی فوجی اور بگرام سمیت آٹھ فوجی اڈے برقرار رکھے جائیں گے۔

دوسرا آپشن تھا کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 1800 ہو گی اور بگرام سمیت تین فوجی اڈے برقرار رہیں گے۔

انخلا کے تیسرے آپشن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ، افغانستان سے اپنے تمام فوجی نکال لے گا اور امریکی سفارت خانہ برقرار رکھے گا۔

جب کہ چوتھے آپشن میں کہا گیا تھا کہ تمام امریکی فورسز اور امریکی سفارت خانے کو وہاں سے نکال لیا جائے گا۔

مکینزی نے لکھا ہے کہ صدر بائیڈن نے افغانستان سے انخلا کے لیے تیسرے آپشن کا انتخاب کیا، جس کے بارے میں مکینزی کا کہنا ہے کہ وہ صدر کو دیے گئے چار فوجی آپشنز میں سے بدترین تھا، کیونکہ اس میں امریکی سفارت خانے، وہاں موجود امریکی شہریوں اور امریکہ کے لیے کام کرنے والے افغان باشندوں کو افغانستان میں ہی رکھنے کی کوشش کئی تھی، جو ان کے لیے خطرے سے خالی نہیں تھا۔

ریٹائرڈ جنرل مکینزی نے پیر کے روز وائس آف امریکہ کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں نے یہ محسوس کیا کہ بائیڈن کی جانب سے اس آپشن کا چناؤ حقیقت میں انخلا کے ان چاروں طریقوں میں سب سے بدترین تھا۔

صدر بائیڈن نے اپنے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ایک تقریر میں کہا تھا کہ امریکہ انخلا کے سلسلے میں بہتر حالات کی امید پر وہاں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے یا اس میں اضافہ کرنے کے سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔

بائیڈن نے کہا تھا کہ ’ اگرچہ ہم فوجی لحاظ سے افغانستان میں موجود نہیں ہوں گے لیکن وہاں ہمارا سفارتی اور انسانی مدد کا کام جاری رہے گا۔ ہم افغانستان کی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے اور ہم افغان نیشنل ڈیفنس اور سیکیورٹی فورسز کو مدد فراہم کرتے رہیں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان نے فروری 2020 میں دوحہ میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ مکینزی نے اپنی کتاب ’میلٹنگ پوائنٹ‘ میں اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے اسے بدترین مذاکرات میں سے ایک قرار دیا ہے۔

اس بارے میں وائس آف امریکہ کے سوال پر سابق فوجی کمانڈر جنرل فرینک مکینزی کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس میں ہم نے ملک چھوڑنے کے لیے ایک نظام الاوقات کا وعدہ کیا۔ لیکن ہم نے طالبان پر معاہدے کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی شرط عائد نہیں کی۔ اس معاہدے کو قدرے بہتر بنایا جا سکتا تھا۔ کچھ چیزیں ایس تھیں جس نے طالبان کو نئی زندگی دی۔ ٹرمپ اور اس کے بعد بائیڈن انتظامیہ کے دور میں انخلا کے شیڈول کو ایک ہی طرح سے لیا گیا، جس سے افغان حکومت میں مایوسی پھیلی۔

دوحہ معاہدے میں امریکی سفارت کار خلیل زلمے کے کردار پر ’دی میلٹنگ پوائنٹ‘ میں میکنزی کی تنقید سے متعلق وائس آف امریکہ کے سوال کے جواب میں ریٹائرڈ جنرل کا کہنا تھا کہ زلمے نے مذاکرات کے معاملات کو بہت ہی خفیہ رکھا۔

ان کا کہنا تھا، ان میں کئی معاملات ایسے تھے کہ جب جنوری 2021 میں بائیڈن انتظامیہ آئی تو وہ زلمے کو تبدیل کر سکتی تھی اور معاہدے پرنظرثانی کر سکتی تھی۔ طالبان اپنے وعدے پورے نہیں کر رہے تھے۔ لیکن اس کے باوجود جب فروری 2021 میں معاہدے پر دستخط ہو گئے تو پھر وہی کچھ ہونا تھا جو ہم نے اگست 2021 میں دیکھا۔

ریٹائرڈ جنرل کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں جدید امریکی تاریخ میں نتائج کی پروا کیے بغیر دو صدور، ٹرمپ اور بائیڈن نے افغانستان سے نکلنے کے لیے ایک ہی پالیسی شیئر کی۔

وائس آف امریکہ کے اس سوال پر کہ یوکرین کے خلاف جنگ میں ایران کے ڈرونز اور میزائلوں کی مدد کے بغیر روس کہاں کھڑا ہوتا، سابق امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ایرانی ڈرونز اور میزائل روس کے لیے بہت مفید ثابت ہوئے ہیں۔ وہ کئی روسی ہتھیاروں کے مقابلے میں بہتر ہیں۔ ان سے روس کی حربی قوت میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ مفت نہیں ہے۔ دونوں مطلق العنان حکومتیں ہیں۔ یہ باہمی مفاد کا تعلق ہے۔ ہمیں اس بارے میں فکرمند ہونا چاہیے کہ اس کے بدلے میں ایران کو روس سے کیا مل رہا ہے۔

وائس آف امریکہ کےسابق امریکی کمانڈر جنرل فرینک مکینزی سے اس سوال کے جواب میں کہ اس وقت امریکہ میں یہ بحث چل رہی ہے کہ روس یوکرین کے اندر جا کر ہر طرف حملے کر رہا ہے۔ کیا آپ کے خیال میں یوکرین فوجیوں کو روس میں جا کر حملے کرنے چاہییں؟

انہوں نے کہا کہ میرا جواب ہاں میں ہے، لیکن میں یہ بھی کہوں گا کہ حملوں کے لیے کچھ حدود کا تعین ہونا چاہیے۔ یہ جغرافیائی حدود نہیں ہیں، بلکہ ان کا تعلق حساس مقامات سے ہے۔ روس کی جوہری تنصیبات اور جوہری کنڑول اینڈ کمانڈ نظاموں پر حملوں سے باز رہنا چاہیے۔ اس وقت روس کی روایتی فوجی قوت کو کھلا ہاتھ ملا ہے اور اس نے حالیہ کارروائیوں میں یوکرین کی دفاعی صلاحیت کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here