غزہ میں امن معاہدے کے تحت انخلا کی ’یلو لائن‘ اب نئی سرحد ہے،اسرائیل

اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف آئل زمیر کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں امن معاہدے کے تحت انخلا کی ’یلو لائن‘ اسرائیل کے ساتھ غزہ کی ’نئی سرحد‘ ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق آئل زمیر کا کہنا ہے کہ پیلی لکیر ایک نئی سرحدی لائن اور آبادیوں کے لیے ایک جدید دفاعی لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔

10 اکتوبر سے اسرائیل اور حماس کے درمیان نافذ العمل جنگ بندی معاہدے کے تحت طے پایا تھا کہ اسرائیلی افواج ’پیلی لکیر‘ سے پیچھے چلی جائیں گی۔ یہ لکیر اس علاقے کی نشاندہی کرتی ہے جہاں سے امن معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیلی فوج کا انخلا ہوا ہے۔

غزہ جنگ بندی منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت، اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کے 53 فیصد حصے پر قابض ہے جس میں غزہ کی بیشتر زرعی اراضی شامل ہے۔

منصوبے کے اگلے مرحلے کے تحت اسرائیلی فوج نے مزید علاقے کو خالی کرنا ہے۔ اس کے علاوہ منصوبے میں غزہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے ایک عبوری اتھارٹی کا قیام، غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی اور حماس کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو رواں ماہ کے اختتام میں غزہ کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں ’امن کے مواقع‘ پر بھی بات کریں گے۔ ان کا اشارہ اسرائیل کے عرب اور مسلم ممالک کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم کرنے کی امریکی کوششوں کی جانب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں عرب ریاستوں اور ’فلسطینی پڑوسیوں کے ساتھ عملی امن قائم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔‘ اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ہمیشہ غربِ اردن پر سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھنے پر اصرار کرے گا۔

تاہم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غربِ اردن کے ’سیاسی الحاق کے مسئلے‘ پر بات چیت ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم رہنماؤں سے وعدہ کیا تھا کہ اسرائیل اپنے زیر قبضہ مغربی کنارے کا الحاق نہیں کرے گا۔

Share this content: